لاہور: تشدد کا نشانہ بننے والا سکردو کا طالب علم دلاور عباس جنرل ہسپتال لاہور میں دم توڑ گیا

20 سالہ طالب علم دلاور عباس لاہور کی ایک یونیورسٹی میں گریجویشن کر رہا تھا، ماڈل ٹاون کے کرکٹ گرانڈ میں 20 افراد نے طالبعلم پر حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا

سکردو (سنہرادور آن لائن ) کھیل کا میدان مقتل گاہ بن گیا۔ بوڑھے باپ کا اکلوتا بیٹا ظالموں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا ، کوینس خپلو سے تعلق رکھنے والا طالب علم دلاور عباس 20 افراد کے پسمانہ تشدد سے ہسپتال میں دم توڑ گیا ، جامعہ منتظر میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مرحوم کو آبائی علاقے روانہ کر دیا گیا۔
لاہور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گانچھے کے علاقے کونیس سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ طالبعلم لاہور کے کسی یونیورسٹی سے بی اے میں زیر تعلیم تھا. جو معمول کے مطابق سہ پہر نزدیکی گراونڈ میں کھیلنے جاتے تھے لیکن ان کی گراونڈ میں پانی ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں سمیت ماڈل ٹاون کے کسی کلب گراونڈ گئے جہاں انہیں کلب میں موجود دیگر لڑکوں نے کھیلنے سے منع کیا جس پر انکی تکرار ہو گئی اور اسی دوران کلب کے لڑکوں نے حملہ کر دیا اور کرکٹ بیٹ سے مرحوم دلاور عباس کے سر اور گردن پر وار کر دیا جس سے وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے تاہم ظالموں نے انہیں نہیں بخشا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور زخموں سے چور مرحوم کو جرنل ہسپتال داخل کر دیا گیا جہاں وہ تین دن کومے میں رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گئے۔ مرحوم کی میت کو پوسٹ مارٹم کے بعد جامعہ المنتظر منتقل کردیا گیا۔ جہاں نماز جنازہ کے بعد آبائی علاقے کونیس روانہ کر دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق مرحوم اپنے والد کا اکلوتا بیٹا تھا اور انکے والد بزرگوار کویت میں محنت مزدوری کرتے تھے اور بیٹے کے ساتھ ہونے والے ظلم کی اطلاع پر وہ گزشتہ رات لاہور پہنچ گئے ہیں ادھر اطلاعات کے مطابق پولیس واقعہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے اور قاتلوں کو گرفتار کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں