لاہور میں ہم جنس پرستی کے تحت دو لڑکیوں کی آپس میں شادی کا واقعہ


پولیس کا لڑکیوں کو تحفظ دینے کا انکشاف، اہل محلہ نے دونوں لڑکیوں کے شرمناک تعلقات کے بارے میں بتا دیا

حال ہی میں لاہور میں ہم جنس پرستی کا ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جہاں دو لڑکیوں نے ایک دوسرے سے شادی کر لی۔ اس تمام تر معاملے پر کئی شرمناک حقائق سامنے آئے۔ ثوبیہ کی والدہ نے بتایا کہ ثوبیہ مجھے اکثر کہتی تھی کہ شیزہ میرا پیار ہے میں اسے چھوڑ نہیں سکتی۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ میں شیزہ سے شادی کر رہی ہوں۔
ثوبیہ کہتی تھی کہ جو بھی بیچ میں آیا میں نے اُسے گولی مار دینی ہے۔ والدہ نے کہا کہ شیزہ ساری رات میری بیٹی ثوبیہ کے ساتھ کمرے میں رہتی تھی اور کُنڈی لگا لیتی تھی۔ ثوبیہ کے اہل محلہ نے بتایا کہ اُسے نشے کی لت بھی تھی۔ بچیوں کو دیکھ کر انہیں ورغلاتی تھی اور اپنے ساتھ گھر لے جا کر نازیبا حرکات کرتی تھی۔ محلے کے رہائشی ایک شخص نے بتایا کہ دو تین مرتبہ اُس نے شراب بھی منگوائی ہے۔

اہل محلہ نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او تھانہ مناواں انہیں تحفظ فراہم کر رہا ہے اور انہیں اس بات پر قائل کر رہا ہے کہ ہم جنس پرستی اچھا فعل ہے۔ ثوبیہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نے میرے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔ اہل محلہ کا کہنا ہے کہ شیزہ اور ثوبیہ کا معاملہ مناواں تھانے کی پولیس نے انتہائی غلط طریقے سے ہینڈل کیا جو ان کی نا اہلی کا ثبوت ہے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل لاہور میں ہم جنس پرستی کے تحت شادی کرنے والی دو لڑکیوں کا کہانی سامنے آئی۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ ثوبیہ نامی لڑکی نے خود کو لڑکا ظاہر کر کے اپنی سہیلی شیزہ کو زبردستی اپنی بیوی بنایا۔اس مقدمے کے حوالے سے بابر علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ قانونی اور شرعی طور پر عورت دوسری عورت سے شادی نہیں کر سکتی۔ عدالت نے لڑکی کی والدہ اور فیملی ممبران کی ضمانتیں 7 جنوری تک کے لیے منظور کر لی ہیں۔
سیشن عدالت نے پولیس سے مقدمے کی تفصیلات طلب کر لیں۔ اس واقعہ پر شیزہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ ثوبینہ نامی لڑکی کا کردار اچھا نہیں ہے وہ موٹر سائیکل چلاتی ہے اور شراب بھی پیتی ہے۔ ہم نے اپنی بیٹی کو منع کیا تھا کہ اس سے دوستی مت کرو۔ ثوبیہ ایک دن ہمارے گھر آئی اور کہا کہ اپنی بیٹی شزا کا رشتہ دو ہم نے انکار کیا تو وہ اُسے اپنے ساتھ لے گئی اور شادی کر لی جس کے بعد جب ہم اپنی بیٹی کو واپس لے کر آئے تو اُس نے ہم پر اغوا کا مقدمہ درج کروادیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں