لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ اعلی کارکردگی کی مثال قائم کرگئے

چیف جسٹس لاہور ہائیکور ٹ جسٹس سید منصور علی شاہ کی عدالت عظمی سے وابستگی پر ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا۔


تقریب کے شرکاءنے جس طرح مہمان خصوصی پر اپنی محبتوںاور عقیدت کے پھول نچھاور کئے ، جس جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ مہمان زی وقار کو رخصت کیا وہ قابل قدر اور قابل رشک ہے۔ اگر کسی ادارے کے سربراہ نے اپنے فرائض منصبی کو خدمت اور عبادت سمجھ کر سر انجام دیا ہوا اور اپنا ہر لمحہ خدمت خلق میں بسر کیا تو پھر اسی طر ح عزت او ر وقار حاصل ہوتا ہے جس طرح اس تقریب کے دوران دیکھنے میں آیا۔ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے ہر رکن نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنے چیف کے ساتھ اپنی دلی محبت کا اظہار کیا ۔ تقریب کے اختتام پرجس طرح والہانہ انداز میں ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے اراکین چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے امڈ رہے تھے اان کے ساتھ مصافحہ کرنے ، بغلگیر ہونے ، سیلفیاں بنانے کے لئے والہانہ انداز میں ان کی طرف لپک رہے تھے اور جس انداز سے انہوں نے الوداعی تقریب کو یادگار بنانے کے لئے شاندار پروگرام ترتیب دیا اسے دیکھ کر جسٹس سید منصور علی شاہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ تقریر تو میں نے کچھ اور کرنی تھی لیکن آپ کی محبت ، جوش و جذبہ اور وارفتگی دیکھ کر اب اس طرح سے تقریر نہیں ہو پائے گی جس طرح میں عام طور پر کرتا ہوں ۔ درحقیقت یہ محبتوں اور عقیدت کی بات ہے اگر آپ نے دل سے دوسروں کے لئے کچھ کیا ہوا ، ان کے دکھ درد کو محسوس کیا ہو اور انہیں گلے لگا کر ان کی زندگیوںمیں خوشیاں لانے اور مصائب دور کرنے کے لئے عملی طور پر کچھ کر کے دکھایا ہو تو پھر اسی طرح لوگ آپ کواپنے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور وہ عزت و احترام دیتے ہیںجسے دیکھ کر آنکھوں بھر آتی ہیں۔ بلا شبہ لاہورہائیکورٹ کی تاریخ میں جسٹس سید منصور علی شاہ کے کارنامے سنہری حروف میں لکھے جائیں گے ۔

ایک نئے وژن اور انقلابی سوچ کے ساتھ انہوں نے لاہور عدلیہ اور ضلعی عدلیہ کو اپنی اعلی کارکردگی سے صحیح معنوں میں ایک باوقار ادارہ بنانے کی جدو جہد کی ، ان بنیادی مسائل پر توجہ دی جن کی وجہ سے عوام سالہاسال حصول انصاف کے لئے عدالتوںکے دھکے کھاتے ہیں،مقدمات کے فیصلوں کے انتظار میں اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں ، اپنا سب کچھ بیچ کر بھی عدل و انصاف حاصل نہیں کرپاتے اور سسٹم کی کمزوری کی وجہ سے ظالم اور جرائم پیشہ عناصر صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے اصلاحاتی ایجنڈے میں عدالتی نظام کی درستگی کے ساتھ ساتھ کردارسازی پر بھی خصوصی توجہ دی ، عدالتی کارکنان ، جج صاحبان کو اپنے خاندان کے افراد کی طرح سمجھتے ہوئے انہیں یہ باور کرایا کہ وہ ان لوگوں کی آخری امید ہیں جو معاشرے میں ظلم و ستم اور نا انصافی کا شکار ہوکر صرف انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں کا رخ کرتے ہیںاوراگر یہاں بھی انہیں غیر انسانی سلوک اور رویے کا سامنا کرنا پڑے تو پھر اس سے بڑھ کر ہماری کوئی ناکامی نہیں،انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں ضلعی کی سطح تک اے ڈی آر سسٹم،کیس مینجمنٹ ، وڈیو لنک کے زریعے مقدمات کی سماعت ، خصوصی عدالتوں اور ماڈل کورٹس کے قیام ،ای لائبریری کی سہولیا ت دور دراز کے علاقوں تک پہنچانے ، جدید ترین آٹی ٹی سسٹم اور متعدد دیگر ایسے اقدامات اٹھائے جنہیںواقعتاانقلابی سوچ کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا۔ ان کے دورہ برطانیہ کے ایک ساتھی جج نے جسٹس سید منصور علی شاہ کے کی عزم و ہمت کے بارے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ان کے ساتھ چلنے کے لئے لازم ہے کہ ملٹی وٹامنز اپنے ساتھ رکھی جائیں کیونکہ وہ انتھک محنت کے قائل ہیں جبکہ ان کے ساتھ چلنے والوں کا ”سٹیمنا“ بہت کم ہوتا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکور ٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے اپنے اعزاز میںالوادعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدق دل، محنت ، دیانت اور عزم صمیم کے ساتھ فرائض منصبی سر انجام دیئے جائیں تو نہ صرف کامیابی حاصل ہوتی ہے بلکہ راستے کی سب روکاوٹیں بھی دور ہو جاتی ہیں اورمنزل ضرور حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کے طور پر اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ خدمات سر انجام دی ہیں ، اکیلا کچھ نہیں ہوں ، ساتھیوں نے ہر قدم پر مدد کی ، ہر ممکن ساتھ دیا اور اجتماعی کوششوں سے ایسے روڈ میپ پر آگے بڑھ سکے جس سے اصلاحات کے جامع پروگرام پرعملدرآمد ممکن ہو سکا ۔۔ تقریب میں لاہور ہائیکورٹ کے ججز،جسٹس خالد محمود ملک، جسٹس قاضی امین احمد، جسٹس راجہ شاہد محمود ، رجسٹرار ہائیکورٹ خورشید احمد رضوی، ایڈیشنل رجسٹرار ڈاکٹر عبدالناصر ، ایڈیشنل رجسٹرار عبدالحفیظ مرزا، ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے افسران اور سٹاف ممبران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا لاہور ہائیکورٹ میں تعیناتی کے دوران بھائیوں اور ساتھیو ں سے جوپیار ملا وہ ناقابل فراموش ہے۔انہوں نے کہاکہ ڈیڑھ سالہ دور محبت کا دور تھا، اکیلے کچھ نہیں ہو سکتا۔ ٹیم کی وجہ سے کامیابیاں حاصل ہوتی رہیں۔ جو کچھ کرسکاصرف اکیلے میرا کریڈٹ نہیں، اللہ تعالی نے موقع دیا اور یہ منصب دیا میں نے کوشش کی جوڈیشری کے ہر فرد نے ساتھ دیا جس کی وجہ سے آج سرخرو ہوں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکور ٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے بینچ انتظامیہ سے کہا کہ ہائیکورٹ اورآپ فرنٹ پیج ہیںضرورت اس امر کی ہے کہ عدلیہ کی روح کو مضبوط کیا جائے۔ دوران ملازمت سہولیات اور مراعات آپ کا حق تھا جس کے لئے کوشش کی گئی اور مسائل و مشکلات دور کرنے کیلئے ہرممکن جدو جہد ہوئی ،ملکی اور بین الاقوامی سطح پرتربیت کے مواقع فراہم کئے گئے اور اعتماد دیا گیا تاکہ انتظامیہ اور جوڈیشل برانچ کی مشاورت سے قوائد و ضوابط کے مطابق مثبت اقدامات اٹھائے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی انتظامیہ صرف ججزکے موڈ اور خوشی کو خاطر میں نہ لائیں بلکہ صحیح اور غلط کی بلا خوف نشاندہی کریں قانونی امور پر صحیح رہنمائی ہو سکے تاکہ عدلیہ کو صحیح معنوں میں رول بیسڈ ادارہ بنایا جاسکے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ عدلیہ کے اراکین خندہ پیشانی،خوش دلی اور خوش لباس کو اپنا شعار بنائیں اور مثبت سوچ اپناتے ہوئے انصاف کے متلاشی افراد کے معاون بنیں تاکہ وہ ان لوگوں کی توقعات پر پورا اترسکیں جن کو عدلیہ سے بے پناہ توقعات وابستہ ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہائیکورٹ کی ملازمت ایک انعام ہے یہ ایسا ادارہ ہے جس نے انصاف دینا ہے ۔ جسٹس سسٹم کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہم انصاف دیتے ہیں۔انہوں نے جوڈیشل انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کی فراہمی میں آپ سب شامل ہیں جوعدلیہ کا فیصلہ لوگوں تک پہنچاتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہمیں کوئی حق نہیںہے کہ ہم کسی کی دلاآزاری کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کےلئے مثال بنیں ، ہمارے رویئے ، کردار ، شخصیت اور کارکرگی سے جب لوگ مطمئن ہوں گے تب ہی ادارہ کھڑا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنخوائیں ٹھیک ہوں نظام بہتر اور مراعات میںکمی نہ ہو تو پھر امانت میں خیانت نہیں ہونی چاہے اور میرٹ اور انصاف پرکام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن فری ہائیکورٹ میرا مشن رہا ہے تاکہ لوگ مثال دیں۔ انہوںنے کہاکہ تما م تر اصلاحات کا یہی حاصل ہے کہ یہ سوچ ہو کہ دینے والی صرف ا رب کی ذات ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہائیکورٹ کا ہر رکن یہ عہد کر لے تو سمجھوں گا کہ میری محنت وصول ہو گئی۔اپنے خطاب کے دوران انہوں نے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے لاہورہائیکورٹ کے جج صاحبان کی اعلی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج عبادلرحمن لودھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جسٹس سید منصور علی شاہ اصلاحات کا جو پیکج متعارف کرایا و ہ اپنی مثال آپ ہے اور ان کی اعلی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہونے والے رجسٹرار ہائیکورٹ لاہور خورشید انور رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جسٹس سید منصورعلی شاہ کے ساتھ ملازمت پر انہیں فخر ہے جنہوں نے ہمیشہ ملازمین کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھا اور بحثیت رجسٹرار انہوںنے ہر ممکن کوشش کی کہ ملازمین کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور انہیں ہر ممکن سہولیات حاصل ہوں ۔ انہوں نے بھر پور تعاون پر ہائیکورٹ کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔ قبل ازیں خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ایڈیشنل رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ عبدالحفیظ مرزا نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے ملازمین کے لئے جو قابل فخر خدمات سر انجام دیں انہیں عدلیہ کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ کے ملازمین کے مسائل حل کرنے ، ان کی اپ گریڈیشن، انہیں عزت اور احترام دینے میں چیف جسٹس لاہور جسٹس سید منصور علی شاہ کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ اس موقع پر سعدیہ انجم نے بھی خطاب کیا اور ہائیکورٹ ملازمین کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ کا شکریہ ادا کیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکور ٹ جسٹس سید منصور علی شاہ کے اعزازمیں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنیج کی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی الوداعی تقریب میں شرکت کے لئے ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ آمد پر ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ انہیں پنجاب پولیس کے چا ک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی ۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ پر پھولوںکی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ان کی راہ گزر کو گل گلزار بنادیا گیا۔ ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے ججز اور انتظامی و عدالتی عملے کے اراکین نے ان کا والہانہ استقبال کیا اس موقع پر گھوڑے کا رقص پیش کیا گیا ۔ ہائیکورٹ بینج راولپنڈی کے سبزہ زار میںمنعقد ہ تقریب میں شریک ملازمین نے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا حسن تدبر اور ملازمین دوستی قابل فخر ہے انہوں نے بلخوص ملازمین کے لئے جو کچھ وہ ایک مثال ہے۔ تقریب میں عارفانہ کلام بھی پیش کیا اور نظم و نثر دونوں میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی خدمات اور ملازمین سے ان کی پیار محبت کو سراہا گیا۔ تقریب میں ملازمین نے اپنی دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں وہ پہلے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ہیںجنہوں نے سینیٹری ورکرز کو بھی گلے لگایا اور ان کے دکھ درد بانٹے ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکور ٹ جسٹس سید منصور علی شاہ کے اعزازمیں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنیج کی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی الوداعی تقریب میں مقررین نے جسٹس سید منصور علی شاہ کے لئے والہانہ جذبوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدلیہ کے تمام اراکین کو اپنی اہل خانہ کی طرح پیار محبت اور اپنایت دی ان کے تکالیف کا احساس کیا، درجہ چہارم کے ملازمین کی سفری مشکلات دور کرنے کے لئے انہیں موٹر سائیکل فراہم کئے ، انہیں اضافی سالانہ ترقیاں دیں۔ دوران ملازمت وفات پر ملنے والے ایک سے دو لاکھ روپے کے فنڈ میں 20 لاکھ روپے تک بڑھا دیا، کلریکل سٹاف، جونیئر و سینئر کلرک کو اگلے گریڈمیں ترقیاں دی گئیں، جوڈیشل الاونس میں پچاس فیصد تک اضافہ کیا ، انتظامی الاونس میں اضافہ کیاگیا، ملازمین کی بچیوںکی شادیوں کی امدادی رقوم کو بڑھا کر پانچ لاکھ تک کیا گیا۔ حکومت سے استدعا کرکے ملازمین کے لئے ہر ممکن مراعات حاصل کی۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس سید منصور علی شاہ کی خدمات ہمیشہ یادگار رہیں گی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکور ٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے تقریب میں اپنے خطا ب کے دوران کہا کہ ادارے خوف سے نہیں پیار سے چلتے ہیں اور میں اس اعتبار سے خوش نصیب ہوں کہ مجھے دوستوں کا بھر پور تعاون حاصل رہا اور یہی میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے چھ ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور ہائیکورٹ میں نئی جہتیں متعارف کرائیں اور ان کی مدبرانہ قیادت نے لاہور ہائیکورٹ کے وقار میںاضافہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں