لندن میں بریگزٹ کےخلاف ملین مارچ

 لندن …. لندن میں بریگزٹ کےخلاف ملین مارچ کیا گیا ۔ لاکھوں مظاہرین ملک بھر سے لندن میں جمع ہوئے ۔برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کی مخالفت اور نئے عوامی ریفرنڈم کا مطالبہ کیاگیا۔ مارچ کے شرکاءنے جو پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، ان پر درج تھا کہ بریگزٹ کا بہترین فیصلہ نئے عوامی ریفرنڈم سے ہی ہو سکتا ہے ۔ ریلی سے خطاب کرنے والوں میں لندن کے میئر صادق خان اور حزب اختلاف لیبر کے نائب رہنما ٹام واٹسن شامل تھے ۔ سابق اٹارنی جنرل ڈومینک گیری بھی ریلی میں شریک تھے ۔ مارچ کے منتظمین کے مطابق بریگزٹ کے خلاف لندن میں ہونے والے احتجاجی مارچ میں ایک ملین سے زائد شہریوں نے شرکت کی ۔ اس سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں ایسے ہی ایک مارچ میں 7 لاکھ کے قریب شہری شامل ہوئے تھے۔ اگر منتظمین کا دعوی درست ہے تو اسے 2003میں لند ن میں جنگ عراق کے خلاف ہونےو الے مظاہرے سے بڑا احتجاج کہا جا سکتا ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس نے مارچ کے شرکاءکی تعداد پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔برطانیہ کے ساڑھے 4 لاکھ سے زائد شہری ملک میں نئے بریگزٹ ریفرنڈم کیلئے پٹیشن پر د ستخط کر چکے ہیں۔برطانیہ میں بریگزٹ معاملے پر وزیر اعظم تھریسامے کا مستقبل بھی داو پر لگا ہے ۔ تھریسامے کو بریگزٹ ڈیل پر 2مرتبہ پارلیمانی رائے شماری میں شکست ہوچکی ہے ۔ ترامیم کے باجود تھریسامے بریگزٹ معاہدے کو ابھی تک دارالعوام سے منظور کرانے میں ناکام رہی ہیں ۔ خود حکمراں جماعت کے ارکان اس معاملے پر تقسیم نظر آتے ہیں۔ برطانیہ میں عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بریگزٹ معاملے پر نیا ر یفرنڈم کرایاجائے ۔ برطانیہ کو آئندہ بھی یورپی یونین ہی میں رہنا چاہیے۔لیبر پارٹی بھی نئے ریفرنڈم کے حق میں نظر آتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں