لیبیا: مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 8 پاکستانیوں سمیت 10 جاں بحق

طرابلس (مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا کے سمندری علاقے میں مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے کم ازکم 90 افراد ڈوب گئے جبکہ 8 پاکستانیوں سمیت 2 لیبیا کے باشندوں کی لاشیں نکال لی گئیں۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی تنظیم برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ کشتی میں 90 افراد سوار تھے اور اطلاعات کے مطابق ان میں سے اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ترجمان اولیویا ہیڈن کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو لے جانے والی کشتی لیبیا کے ساحل زوارا کے سمندر میں ڈوب گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کم ازکم 90 افراد ڈوب گئے ہیں اور 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں’ جن میں سے دو کا تعلق لیبیا سے تھا جبکہ دیگر 8 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔تنظیم کے مطابق حادثے میں ڈوبنے والے دو افراد نے تیر کر جان بچائی جبکہ تیسرے شخص کو ماہی گیروں کی کشتی نے بچالیا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین واضح طور پر لیبیا سے اٹلی کو ملانے والے سمندری راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کو درپیش شدید مشکلات سے مسلسل خبردار کرتی رہی ہے۔

تنظیم برائے مہاجرین کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک 6 ہزار 600 سے زائد مہاجرین اور پناہ گزین سمندری راستے سے یورپ پہنچ چکے ہیں جن میں سے 65 فیصد اٹلی سے گزر کر داخل ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ لیبیا کے ساحل میں 2016 میں مہاجرین کی دو کشتیاں الٹ جانے کے نتیجے میں 110 سے زائد افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے اور 2016 میں یورپ ہجرت کرنے والے کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں