ماضی میں مرغیاں 15 لاکھ گھروں میں انقلاب لائیں!

لاہور:  بھٹو حکومت نے پولٹری فارمنگ کے لیے 10سالہ لیز پر سرکاری زمین دینے کا اعلان کیا، صنعتوں کے قومیائے جانے سے بھی پولٹری انڈسٹری کو فروغ ملا۔ پولٹری کی افزائش کے لئے عالمی ادارہ خوراک و زراعت کی مدد سے کراچی اور راولپنڈی میں تحقیقاتی مراکز قائم کیے گئے۔

وزیراعظم عمران خان کے بیان کے بعد انڈے اور مرغیاں سوشل میڈیا کی زینت بنے رہے۔ تقریباً 90 فیصد پوسٹیں اسی طرح کی تھیں۔ مام ہی جماعتوں کے لوگ اس مذاق میں لگے رہے۔ وہ یہ بھی بھول گئے کہ ہر دور میں مرغی پال سکیم کسی نہ کسی طرح ان کے بجٹ کا بھی حصہ رہی ہے۔ اس وقت مذکورہ انڈسٹری سے 20 لاکھ سے زائد لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ کچھ بھی کہنے سے پہلے ہم پولٹری انڈسٹری پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔


سب سے پہلے ہم بات کریں گے سابق صدر ایوب خان دور کی۔ 1963ء میں ملک میں انڈوں اور گوشت کی پیداوار 0.7 پیداوار کلو تھی اور یہ گوشت 4 مہینے کی عمر میں حاصل ہوتا تھا۔

چنانچہ ایسی مرغیوں کی ضرورت تھی جو کم وقت میں زیادہ تیزی سے گوشت کی پیداوار بڑھا سکیں۔ ملک کو گندم میں خود کفالت اور پروٹین کی افزائش کی ضرورت تھی۔

پروٹین کے ناقابل بیان حد تک خطرناک بحران سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما متاثر ہونے کا اندیشہ تھا۔ بچوں کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، وہ پروٹین تھی۔ قوم غذائی کمی پر قابو پانے کے لئے نت نئے منصوبوں پر کام کر رہی تھی مگر غذائی بحران بے قابو جن کی طرح بوتل سے نکلتا جا رہا تھا۔

سابق صدر ایوب خان نے عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کئی حل تلاش کئے۔ اگر یہ حل نہ نکلتے تو پاکستان میں لوگ پروٹین کی کمی کا اس طرح شکار ہوتے جیسے آج تھر میں ہیں۔

سب کی نظریں فیصل آباد کی ”سلور بلیک “کہلائی جانے والی مرغی پر جمی ہوئی تھیں، مگر اس کی پیداوار بہت کم تھی۔ یہ مرغی فیصل آباد کی آب و ہوا میں سالانہ 73 انڈے دے سکتی تھی، مانگ اس سے کہیں زیادہ تھی۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ”ڈیپارٹمنٹ آف اینیمل ہسبینڈری“ نے اسی مرغی کی نئے ماحول میں پرورش کے ذریعے غذائی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی۔

مذکورہ شعبے نے دن رات کام کیا، تب لئیرز سال بھر میں 73 کی جگہ 150 انڈے دینے اور وزن 12 ہفتوں میں 1.4 کلو کرنے کے لیے مخصوص ماحول میں ان کی افزائش کی گئی۔ یوں لاکھوں دیہات میں پولٹری کی افزائش کاشت کاری کے بعد سب سے بڑا بزنس بن گئی بلکہ کسانوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی سے کم نہ تھی۔

ادھر سابق صدر ایوب خان کی ہدایت پر غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے باقاعدہ مہم شروع کی گئی۔ حکومت نے پولٹری کی آمدنی کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز نے کینیڈا کے” شیور پولٹری بریڈنگ فارم“ کے ساتھ معاہدہ کر لیا، دونوں کے اشتراک سے کراچی میں پہلی جدید ہیچری قائم ہوئی۔

ایک پاکستانی کمپنی نے رحیم یار خان میں پولٹری فیڈ مل لگائی جس کا مقصد پولٹری کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ بعد ازاں دوسری فرمیں بھی میدان میں آ گئیں۔ 1965ء سے 1975ء تک حکومت کی توجہ کا مرکز مرغیاں بن گئیں۔

ایوب خان کے بعد بھٹو دور میں بھی ”مرغی، مرغی“ ہوتی رہی۔ ان دس سالوں میں پولٹری کی آمدنی کو ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دئیے جانے کے علاوہ مزید کئی اہم اقدام کیے گیے۔ چوزوں، پیرنٹس اور ہیچری سے متعلقہ تمام مشنری ٹیکس فری کر دی گئی۔ جو چاہے، جب چاہے درآمد کرے۔ تمام قانونی پابندیاں ختم کر دی گئیں۔ پولٹری فارمز کے لئے سرکاری زمین سستی لیز پر دی گئی۔

عالمی ادارہ خوراک و زراعت (FAO)کی مدد سے کراچی اور راولپنڈی میں دو بڑے تحقیقی مراکز قائم کیے گئے۔ عالمی ادارے بھی اس وقت پولٹری کو ہی پروٹین کی فراہمی کا اہم ذریعہ قرار دے رہے تھے۔ چنانچہ کراچی اور راولپنڈی میں قائم کردہ مراکز میں پولٹری کو بیماریوں سے پاک کرنے کے لیے مزید تحقیق کی گئی۔

منگل اور بدھ کو گوشت کا ناغہ بھی گائے اور بکرے کے گوشت کی کمی پر قابو پانے اور مرغیوں کی فروخت کی حوصلہ افزائی کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ ناغے آج تک جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک (UNDP) نے اس صنعت کی ترقی کے لئے پاکستان کی ہر ممکن مدد کی اور سبسڈی کا بھی انتظام کیا۔ اسی دور میں زرعی ترقیاتی بینک نے پولٹری شیڈز کے لیے قرض مہیا کیے۔ دیگر بینکوں کو بھی قرضوں کی فراہمی کے لئے ہدایات دی گئیں۔

کراچی اور پنجاب میں ایک ایک ”پولٹری پراڈکشن ڈیکٹوریٹ“ قائم کیا گیا۔ ان کی معاونت کے لیے مرکزی سطح پر مزید ”فیڈرل پولٹری بورڈ “بنایا گیا۔ ان آٹھ نو اہم اقدامات کا بنیادی مقصد پولٹری انڈسٹری کی ترویج و ترقی تھا۔

ان اقدامات کے نتیجے میں جوائنٹ وینچرز ہوئے۔ ٹیکسوں میں رعایت کی وجہ کئی نجی ادارے میدان میں آئے اور دیسی نسل کی جگہ نئی بریڈ متعارف ہوئی۔ دوسرا مرحلہ ادارہ جاتی ترقی کا تھا۔ یہ مرحلہ 1971ء سے 1975ء تک جاری رہا۔ 1970ء کی دہائی میں اس انڈسٹری نے 20 سے 30 فیصد تک ترقی کی۔ بعد کے برسوں میں ترقی کا تناسب کبھی 27 فیصد اور کبھی سوا فیصد رہا۔

اس دور میں زرعی معیشت میں پولٹری ریڑھ کی ہڈی کی مانند تھی۔ نوزائیدہ ہونے کے باوجود طاقت ور انڈسٹری تھی۔ پولٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے عالمی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے فنڈز کی مدد سے مزید امداد دی۔

تیسرا مرحلہ پیداوار میں اضافے کے لئے پولٹری کی افزائش کا تھا۔ یہ عرصہ 1976ء سے 1980ء تک جاری رہا۔ سابقہ بھٹو حکومت نے پولٹری فارمنگ کے لیے 10 سالہ لیز پر سرکاری زمین دینے کا اعلان کیا، دوسری کئی صنعتوں کو قومیا لیا گیا جس کے بعد پولٹری فارمز کو فروغ حاصل ہوا اور انڈوں کی قومی پیداوار 63 کروڑ سے بڑھ کر 1980ء میں سوا ارب تک پہنچ گئی۔ یعنی تقریباً دگنی ہو گئی۔

اسی عرصے میں برائلرز کی پیداوار 72 لاکھ سے بڑھ کر پونے دو کروڑ تک پہنچ گئی۔ مگر پیداوار مانگ زیادہ ہو گئی تھی جس سے پولٹری فارمرز کو مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔

کراچی اور پنجاب میں متعدد پولٹری فارمز بند ہو گئے۔ اخراجات میں کمی کے لئے 1976ء سے لے کر 1980ء کی پوری دہائی پولٹری انڈسٹری کے لیے بدترین ثابت ہوئی۔

بریڈنگ فارمز کراچی سے ایبٹ آباد، مری، کوہاٹ اور کئی دوسرے مقامات پر منتقل ہو گئے۔ مگر مرغی کی مشکل پھر بھی کم نہ ہوئی۔ 1990ء کو پولٹری کے حوالے سے بدترین سال کہا جا سکتا ہے جب ”ہائیڈرو پیری کا ڈیم سنڈروم “نامی بیماری لگنے سے بے تحاشا پرندے راتوں رات ہلاک ہو گئے، جس سے بریڈنگ انتہائی کم رہ گئی۔ چنانچہ پولٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ وغیرہ نے بیماریوں کی روک تھام کے لیے تحقیقات کیں۔


1995ء میں انفلونزا سے مری اور ایبٹ آباد 80 فیصد مرغیاں ہلاک ہو گئیں۔ 1997ء میں شادی بیاہ کے کھانوں پر پابندی سے مرغیوں کی مانگ میں 40 فیصد کمی آ گئی تاہم 1998ء میں صورتحال پھر بہتر ہونا شروع ہوئی۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پولٹری کے حوالے سے 5-6 بڑے دور آئے۔ 1963-1997-1980-1999-1995-2000 اور پھر چند سالوں میں برڈ فلو کی وجہ سے بحران آئے۔

اس عرصے میں پولٹری انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا حجم چند لاکھ روپے سے بڑھ کر کئی سو ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس میں سرمایہ کاری کا حجم ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔ پولٹری انڈسٹری کی ترقی کا تناسب مختلف برسوں میں 177 فیصد سے 297 فیصد تک رہا۔

1981ء سے 1990ء تک کے برسوں میں بھی اس کی ترقی کا تناسب 94 فیصد سے 118 فیصد رہا جبکہ 2013ء کے بعد سے اس کی ترقی کا تناسب 26 فیصد کے قریب ہے۔

مذکورہ انڈسٹری میں ماہرین کی رائے کے مطابق ترقی کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے کیونکہ پاکستان کے کئی علاقے بدترین غذائی بحران کا شکار ہیں۔ یہ تجویز کئی مرتبہ پولٹری ایسوسی ایشن وفاقی حکومت کو دے چکی ہے کہ تھر میں اموات کو قابو پانے کے لیے بچوں کو ایک انڈہ روزانہ دینا بہت فائدہ مند ہے، اس سے ہم تھر میں بچوں کو زندگی دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں پولٹری انڈسٹری ساڑھے سات سو ارب روپے کا بزنس ہے۔ کئی سو ہیچریاں اور کروڑوں چوزے ہر سال فروخت ہوتے ہیں۔ اس پیداوار کا 44 فیصد حصہ دیہات سے آتا ہے جبکہ باقی ماندہ مرغیوں کی افزائش شہروں میں کی جاتی ہے۔

ان حالات میں وزیراعظم عمران خان نے بہت زیادہ انوکھی بات نہیں کی۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ماضی میں پولٹری انڈسٹری کو بہت زیادہ اہمیت دیتے رہے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو، میاں نواز شریف اور شہباز شریف دور میں بھی پولٹری انڈسٹری کی افزائش کے لیے کئی پراجیکٹ بنائے گئے۔ سابق وزیر خزانہ نے پولٹری انڈسٹری کو کئی رعایتیں دیں۔

ہاں اب یہ بات درست ہے کہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ موجودہ زمانے کی مانگ کچھ ہے اب ہمیں ضرورت جدید ترین ٹیکنالوجی کی ہے۔ ہم خوراک میں خود کفالت کے بعد اب زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

پولٹری انڈسٹری ایوب دور سے ضیا دور تک 15 لاکھ گھروں میں انقلاب لانے میں کامیاب رہی، کیا ہم اب اس انڈسٹری کے ذریعے سے 15 لاکھ گھروں میں انقلاب لا سکتے ہیں؟ کیا 5 مرغیاں اور ایک مرغا ایک گھر کی حالت بدل سکتا ہے؟


(دنیا میگزین)

اپنا تبصرہ بھیجیں