ماضی کے اعلیٰ مرتبے کی علامت، ویسپا : ایک خصوصی رپورٹ

پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں جہاں اب چینی اور آج سے پندرہ بیس سال پہلے تک جاپانی ساخت کی موٹر سائیکلوں کی بھر مار ہے وہیں ساٹھ، ستر اور سن اسی کے عشرے کی ویسپاا سکوٹر کے شوقین افراد کو اس کے پرزوں اور قدیمی ماڈلز حاصل کرنے کے لیے کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑ رہی ہے۔


ایک برطانوی خبر رساں کے مطابق اٹلی کی کمپنی پیاجو کا اسکوٹرچالیس پچاس سال قبل پاکستان میں اعلیٰ مرتبہ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

جب یہ سڑکوں پر سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں سے کہیں زیادہ ہوتے تھے اور لوگوں کے لیے یورپی اشیاء خریدناآسان نہیں تھا۔


گو کہ گزشتہ عشروں میں موٹر سائیکل کی خریداری بہت زیادہ بڑھی ہے اور چینی و جاپانی ساخت کی موٹر سائیکلیں پاکستان کی سڑکوں پر عام نظر آتی ہیں۔


زبیر احمدناگرا، لاہور میں ویسپا کلب چلاتے ہیں اور کم فیول استعمال کرنے والی موٹر سائیکلیں انہیں متاثر کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

زبیر کے والد نے 1974ء میںایک ویسپا اٹلی سے منگوائی تھی اور زبیر اب بھی وہی ویسپا چلاتے ہیں۔


بہت عرصے سے ویسپا کے مالکان کہتے ہیں کہ ویسپا کو صرف شوقین ہی رکھ سکتے ہیں کیونکہ اس کے فاضل پرزے نہیں ملتے اور گنے چنے مکینک ہی ہیں جو اس کا کام جانتے ہیں۔


لاہور میں ویسپا رکھنے والے افراد کو اکثربھارت سے آنے والے کم تر معیار کے فاضل پرزوں پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے یا پھر لیتھ مشین کے کاریگروں کو از سر نوپرزے بنانے کا کہنا پڑتا ہے۔


ایک اور شوقین فرخ شہباز کے والد کے پاس 1961ء کا ویسپا اسکوٹر تھا اور اب وہ ویسپا ان کے پاس گزشتہ 14 سالوں سے ہے، ان کو یہ اسکوٹر تین بار بنوانا پڑا کیونکہ وہ اپنے والد کی نشانی سے جدا نہیں ہونا چاہتے۔


50 سالہ فرخ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا تھا کہ یہ ویسپا ایک لکڑی کے ڈبے میں بند پاکستان آیا تھا، ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکوں پر چند مغربی سفارتکار ویسپا میں گھومتے نظر آتے ہیں۔


زبیر احمد کا کہنا ہے کہ اطالویوں نے ویسپا اسکوٹر کی شکل میں دوسرا شاندار تحفہ دنیا کو دیا، پہلا تحفہ پیزا ہے، زبیر اپنے ویسپا پر لاہور سے خنجراب تک کا سفر کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ ویسپا نے کبھی بھی انھیں مایوس نہیں کیا۔

(بشکریہ جنگ)

اپنا تبصرہ بھیجیں