ماونٹ ایورسٹ پر اب ٹوائلٹ بنائے جائیں گے

 ماونٹ ایوریسٹ دنیا کا بلند ترین پہاڑ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا بھرکے سیاحوں اور کوہ پیماوں کے لئے کشش کا باعث ہے، لیکن اس پہاڑ کو دیکھنے اور اسے سر کرنے کے لئے آنے والوں کی طرف سے پھیلائی جانے والی گندگی سے دنیا کے اس ساتویں قدرتی عجوبے کی خوبصورتی ماند پڑ رہی ہے۔
 اس گندگی میں انسانی فضلہ سرِ فہرست ہے جس سے نمٹنے کے لئے چین نے اعلان کیا ہے کہ اس پہاڑ پر جلد ماحول دوست بیت الخلاءبنائے جائیں گے۔ 
چینی خبر رساں ادارے ’زنہوانیوز‘سے بات کرتے ہوئے تبت کوہ پیماہ ایسوسی ایشن کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل پیما ٹنلے نے کہا کہ’ٹوائلٹ کے نچلے حصے میں تھیلے لگے ہوئے ڈھول ہیں جس کی مدد سے انسانی فضلہ جمع کرنے میں آسانی ہوگی اورفضلے کوپہاڑ پر جمع کر کے نیچے لایا جائے گا۔‘
زنہواکے مطابق، گذشتہ سالوں میں اس طرح کی سہو لتیں پہاڑ کے نچلے حصے پرکیمپوں کی جگہ نصب کی گئیں ہیں۔ جس میں 5,200 میٹر شمالی بیس کیمپ شامل ہے۔ فروری کی ایک رپورٹ کے مطابق بیس کیمپ سے فضلہ روزانہ جمع کیا جاتاتھا اور مقامی کسانوں کو کھاد کے طور پر استعمال کرنے کے لیے دیا جاتا تھا۔ 
تاہم ماو¿نٹ ایورسٹ پر ماحول دوست بیت الخلاء ایک چینی کمپنی کی جانب سے عارضی طور پر لگائے جائیں گے، جو کو ہ پیمائی کے موسم کے اختتام میں ہٹا دئیے جائیں گے۔ 
پہاڑ کی دونوں جانب، چین اور نیپال کی حکومتیں کوہ پیماوں کی بڑھتی تعداد کی طرف سے چھوڑے جانے والے انسانی فضلے اور گندگی کو صاف کرنے کے لئے اقدام کرتی آئی ہیں۔
چند روز قبل نیپال کی جانب سے بھی بیان آیا تھا کہ وہاں کی حکومت اس سال کوہ پیمائی کے موسم میں صفائی کے لئے خصوصی ٹیم بھیجے گی۔ 
دوسری جانب نیپالیانجینئرز پہاڑ کے جنوبی بیس کیمپ پر بائیو گیس پلانٹ نصب کرنے کے بارے میں بھی غور کررہے ہیں، تاکہ فضلے کو کھاد میں تبدیل کر دیا جائے۔ 
اس سے قبل فروری میں چین نے کوہ پیمائی نہ کرنے والوں کی تبت میں موجود ایورسٹ بیس کیمپ تک رسائی پر پابندی لگا دی تھی تاکہ پہاڑ کا چین والا حصہ صاف کیا جا سکے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں