مجلس وحدت مسلمین کے رہنما ناصر شیرازی کو رہا کر دیا گیا، گھر پہنچ گئے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی کو رہا کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ناصر عباس شیرازی کو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر 31 دن بعد رہا کیا گیا ہے، ناصر عباس شیرازی کو 4 دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ناصر عباس شیرازی کو نامعلوم مقام سے رہا کیا گیا اور اغواء کرنیوالوں نے ناصر عباس شیرازی کے بھائی فخر شیرازی کو فون کیا کہ ناصر شیرازی سے فون کروایا کہ اس جگہ سے انہیں آ کر لے جائیں۔ فخر شیرازی بتائی گئی جگہ پر پہنچے تو ناصر شیرازی وہاں موجود تھے۔ فخر شیرازی انہیں اپنے ساتھ لے کر لاہور میں واقع گھر پہنچ گئے ہیں۔ ناصر عباس شیرازی اس وقت لاہور میں اپنے عزیز و اقارب کیساتھ ہیں۔ ناصر عباس شیرازی کو یکم نومبر کو واپڈا ٹاون سے اغواء کیا گیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کیساتھ خریداری کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔ ناصر عباس شیرازی نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی نااہلی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع رکھا تھا۔ ناصر عباس شیرازی کے بھائی علی عباس نے ان کی بازیابی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس قاضی محمد امین احمد کرتے رہے ہیں۔ ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت پر پولیس سمیت تمام خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران کو طلب کیا تھا جس پر ایم آئی کے کرنل احمد عدالت پیش ہوئے تھے جبکہ دیگر خفیہ ایجنسیوں کے افسران شارٹ نوٹس ہونے کے باعث پیش نہ ہو سکے تھے تاہم فاضل جج نے تمام ایجنسیوں کے افسران کو ہدایت کی تھی کہ 4 دسمبر کو ناصر شیرازی کو بازیاب کر کے ہر صورت میں پیش کیا جائے۔ اغواء کاروں نے ناصر شیرازی کو 4 دسمبر سے قبل ہی رہا کر دیا ہے۔ ناصر عباس شیرازی کے اہل خانہ نے بھی ناصر شیرازی کی بازیابی کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے بھائی کا کہنا تھا کہ ناصر شیرازی کو 4 دسمبر کو عدالت میں پیش کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں