مخلوط حکومت سے بہتر ہے اپوزیشن میں بیٹھیں،عمران

کراچی (صلاح الدین حیدر) چیئر مین تحریک انصاف عمران خان کو25جولائی کے انتخابات میں شاندار کامیابی کی امید ہے۔ ان کا اس پر بھی اصرار ہے کہ وہ وفاق ، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں حکومت تشکیل دیں گے لیکن کسی کے ساتھ اشتراکِ عمل یا کولیشن نہیں ہوگا۔ کولیشن میں خواہ مخواہ وقت ضائع ہوتاہے حکومت میں شامل پارٹیاں ایک دوسرے سے لڑتی جھگڑتی ہیں اور کام کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ بلیک میلنگ کے مواقع بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کولیشن بنانے سے بہتر ہے ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں۔ ا کراچی کے دورے کے دوران انٹرویو میں اس سوال پر کہ آپ اتنے پُر امید کیسے ہوسکتے ہیں کہ آپ ہی جیتیں گے۔ عمران نے کہا کہ اس کے پیچھے 22 سالہ سیاسی جدوجہد ہے۔ قائد اعظم نے 40 سال پاکستان کی جدو جہد کی۔ نیلسن منڈیلا نے 27 سال جیل میں گزارے لیکن ہمت و عزم سے بالآخر کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔کسی بھی پاکستانی لیڈر نے اتنا لمبا عرصہ جدو جہد میں نہیں گزارا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف الیکشن کے لئے تیار ہے۔ آج 7 سو امیدواروں کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔ اُمید ہے فتح ہماری ہوگی۔ پی ٹی آئی کا گراف بلند سے بلند تر ہوتا جارہاہے اور ن لیگ کا گراف پستی کی طرف مائل ہے۔ اس سوال پر کہ لوٹوں کو نظریاتی ورکرز پر ترجیح دے کر انہوںنے شاید غلطی کی ۔ عمران نے برجستہ جواب دیا کہ ہم ماضی سے سبق سیکھ چکے ہیں۔ 2015 میں ہمارے بہت سارے امیدوارانتخابات کی روح سے ہی واقف نہیں تھے۔ الیکشن اےک سائنس ہے۔ اس سے سمجھنا پڑتاہے اور وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو کہ الیکشن لڑنا جانتے ہوں۔ آپ کو خوب تیاری کرنی پڑتی ہے اور ہر امیدوار کے پاس کم ازکم دو ہزار ورکرز ہونے چاہئےں تاکہ انتخابی امور کو با آسانی نمٹا سکیں ۔ انتخاب لڑنا آسان نہیں ہوتا۔ اس سوال پر کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ساتھ اتحاد ہوسکتاہے۔ عمران نے کہا کہ میں کیسے اُن لوگوں کے ساتھ بیٹھ سکتاہوں جنہوںنے قوم کا پیسہ لوٹ کر بیرونِ ملک منتقل کیا۔پاکستان کو اپاہج کرڈالا، آج ڈالر کے مقابلے میں روپیہ125کی بد ترین حد تک گرچکا ہے۔ برآمدات گرتی جارہی ہیں۔ زر ترسیلات میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ معیشت آکسیجن ٹینٹ میںسانس لے رہی ہے۔ یہ ہے نواز شریف اور زرداری کا کارنامہ۔ میں نے تو ان کے خلاف مہم چلائی ہے۔ مجھے اُن دونوں کو جیل بھیجنا ہے یا پھر ان کے پیسے بیرون ملک سے واپس لا کر قومی خزانے میںجمع کرانے ہیں۔ ایک سوال پرکہ کیا وہ بھی آئی یم ایف کے پاس قرضوں کے لئے جائیں گے۔ عمران نے کہا ہوسکتاہے جاوں، ہوسکتاہے نہیں جاوں۔ضرورت ہمیں اپنے اُوپر انحصار کرنے کی ہے۔ اقتدارمیں آکر پالیسیاں ترتیب دیں گے جہاں انتظامی امور پر لوگوں کو اعتماد آئے گا۔ اگر گڈ گورننس ہوئی اور کرپشن کا خاتمہ ہوا تو بیرونی ممالک میں رہنے والے پاکستانی اپنا سرمایہ پاکستان میں لے آئیں گے۔ خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ شاید ہمیں دوسروں پر بھروسے کی ضرورت نہ پڑے،گڈ گورننس ضروری ہے، ایسا کرنا ہماری پہلی ترجیح ہوگی۔پی ٹی آئی نے 11 پوائنٹس کا تو اعلان کرہی دیا ہے۔ جلد بہت اچھا منشور دیں گے جس سے عوام کا ہم پر اعتماد مزید بڑھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اسد عمر میرے وزیر خزانہ ہوںگے۔ انہوںنے ابھی سے معیشت کیبہتری کے لئے کام شروع کردیاہے،ہم نے ایک ٹیم بنالی ہے جو شب وروزپاکستان کی بہتری کے لئے مصروف عمل ہے۔عمران نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی کے دورِحکومت میں پاکستان پر 6 ہزارارب ڈالر کا قرضہ تھا، (ن)لیگ نے اپنے پورے دورِ حکومت میں اسے27 ہزار ارب ڈالرکردیا لیکن پھر بھی ہماری کوششیں جاری ہیں، ہمتِ مرداں مدد خدا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں