مراکشی شاہ اور پوپ کے قافلے میں نوجوان کے گھسنے کی کوشش

رباط: مراکش کے شاہ محمد ششم کے قافلے میں 17سالہ مراکشی نے گھسنے کی کوشش کی جسے محافظوں نے حراست میں لے لیا ۔  بعد ازاں واضح ہوا کہ یہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک مراکشی نوجوان اپنے والدین کی بیماری کے بارے میں بادشاہ کو آگاہ کر کے مدد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شاہ محمد ششم 1969ء ماڈ ل کی کھلی چھت کی مرسیڈیز میں بارش کے دوران شہر کی سڑکوں سے قافلے کی صورت میں گزر رہے تھے۔ سڑک کے دونوں جانب شہریوں کی بڑی تعداد شاہ محمد ششم اور پاپائے روم کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے موجود تھی۔
شاہ محمد ششم تیز بارش کے باوجود کھلی چھت کی گاڑی میں کھڑے ہوکر  مراکشی عوام کے نعروں کا جواب دے رہے تھے۔ قافلے کے ساتھ پاپائے روم خصوصی طور پر تیار کی گئی دوسری گاڑی میں موجود تھے ۔پاپائے روم 2روزہ سرکاری دورے پر مراکش پہنچے تھے۔قبل ازیں پاپائے روم کے دورہ مراکش کے موقع پر شاہ محمد ششم نے کہا کہ انتہا پسندی کا تعلیم کے ذریعے ہی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ بنیاد پرستی کا کوئی فوجی یا دوسرا حل نہیں بلکہ اس کا واحد حل تعلیم ہی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ تمام دہشت گردوں میں مشترکہ چیز مذہب نہیں بلکہ اس سے لاعلمی ہے۔
 82سالہ پوپ فرانسس نے جنونیت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کیلئے  مذہبی رہنما اصولوں کی مناسب تیاری کی ضرورت ہے۔ پاپائے روم نے اپنے سرکاری دورے کے دوران مراکش کے دارلحکومت رباط میں ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ انھوں نے مختلف عقیدوں کے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ بھائی چارے کے ساتھ مل جل کر رہیں۔ رومن کیتھو لک کے کسی روحانی پیشوا کا گزشتہ 34 سال میں مراکش کا یہ پہلا دورہ ہے۔
 انھوں نے اپنی آمد کے فوری بعد مراکش کے شاہ محمد ششم کے ہمراہ آئمہ اور اسلام کے مردو خواتین مبلغین کی تربیت کیلئے قائم کردہ مرکز کا بھی دورہ کیا۔ رباط میں یہ مرکز 2015ءمیں قائم کیا گیا تھا۔ یہاں دوسرے افریقی ممالک اور یورپ سے تعلق رکھنے  والے ائمہ کو بھی مراکشی حکام کے بقول اعتدال پسند اسلام کی تربیت دی جاتی ہے۔ پوپ نے اپنی تقریر میں مراکشی شاہ کی انتہاپسندی کی  تمام شکلوں سے نمٹنے کے لئے کوششوں کی تعریف کی ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں