مرضی کیخلاف فیصلہ آنے پر گالیاں دی جاتی ہیں،چیف جسٹس پاکستان

لاہور : لاہور میں تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ خلاف مرضی فیصلہ آنے پر عدلیہ اور ججز کو گالیاں نہیں دینی چاہیئے، ججز قانون اور آئین کی روشنی میں فیصلہ کرتے ہیں، ہمیں فیصلہ سکھانے والا ابھی کوئی پیدا نہیں ہوا۔

لاہور میں تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کئی مہینوں سے طاری خاموشی توڑتے ہوئے بالا آخر عدلیہ اور ججز کو بلا جواز تنقید کا نشانہ بنانے پر رد عمل ظاہر کردیا۔ تقریب سے خطاب میں سخت لہجے میں چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں گھس کر ججز کو گالیاں دی جاتی ہیں، فیصلہ مرضی کا آئے تو واہ واہ اور خلاف مرضی آئے برا بھلا کہا جاتا ہے۔

حدیبیہ کیس پر سیاسی ردعمل پر جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دباؤ کا شکار ہوتے تو حدیبیہ کیس کا یہ فیصلہ نہ آتا، ہمیں فیصلے سکھانے والا کوئی پیدا نہیں ہوا، مجھے نہیں معلوم تھا،جمعے کو حدیبیہ کیس کا فیصلہ ہے، تمام فیصلے اپنے ضمیر اور قانون کے مطابق کئے ہیں، اور مطمعین ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بغیر سوچے سمجھے تبصرے شروع کردیئے جاتے ہیں، لوگوں کے تبصروں پر حیرانی ہوتی ہے، قسم کھا کر کہتا ہوں کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنے فیصلے کیے وہ ضمیر کے مطابق کیے، تمام ججز آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے، ہم نے عدلیہ کو اندرونی طور پر بھی آزاد کر دیا ہے، ہر جج اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے، آپ کو فخر ہونا چاہیے کہ آپ کی عدلیہ آزاد اور خود مختار ہے، مبصرین فیصلہ پڑھتے نہیں اور ایسا قصہ بنا کرپیش کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے، میں نے اور ساتھیوں نے آئین کے تحفظ کی قسم کھائی ہے، جمہوریت نہیں تو اللہ نہ کرے آئین بھی نہیں۔

سائیلین کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سائلین سے بہت زیادہ فیسیں وصول کرتے ہیں، کیس بنتا نہیں وکیل مقدمہ درج کرنے کا کہتا ہے، انصاف کی فراہمی میں وکلا پر بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے، وکلاء کوششش کریں کہ جتنا ہوسکے لوگوں اور غریبوں سے تعاون کریں اور انصاف کی فوری فراہمی کو ممکن بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں