مشترکہ مفادات کونسل نے قومی ٹاسک فورس برائے تعلیمی معیار بنانے کی منظور ی دے دی

اسلام آباد(سنہرادور آن لائن) مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے ملک میں یکساں اور معیاری نظام تعلیم کیلئے قومی ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن پالیسی 2012ءمیں ترمیم کی تجویز کی بھی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا ، وزیر اعظم ہاﺅس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس نے 18 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور اس طرح کے دیگر اداروں سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے بعد ملک میں قومی ٹاسک فورس برائے تعلیمی معیارات بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ٹاسک فورس نصاب اور ذریعہ تعلیم سے متعلق امور کا جائزہ لے گی اور ملک بھر میں یکساں اور معیاری نظام تعلیم کیلئے اپنی سفارشات دے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار کی تھرڈ پارٹی توثیق کے عمل کو مختصر ترین مدت میں مکمل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ اعلامیے کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ایل این جی کی درآمد کے معاملہ پر فیصلہ کیا گیا کہ اس حوالہ سے صوبوں کے تحفظات متعلقہ وزارت کو ارسال کئے جائیں گے اور یہ معاملہ متعلقہ وزارت کی آراءکے ساتھ مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے گا۔ اسی طرح گیس کے پیداواری فیلڈز کے گرد 5 کلومیٹر کے اندر واقع مقامی آبادیوں و دیہات کو گیس کی فراہمی کے معاملہ پر مشترکہ مفادات کونسل نے فیصلہ کیا کہ اس سلسلہ میں ہونے والے تمام اخراجات تقسیم کار کمپنیاں برداشت کریں گی۔ صوبہ بلوچستان کے معاملہ میں قریب ترین تحصیل ہیڈکوارٹر یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کو گیس کی ترسیل یقینی بنائی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں