مشرقی غوطہ، تازہ حملوں میں کم ازکم 30 افراد ہلاک

سنہرادور (انٹرنیشنل ڈیسک): ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 30 روزہ انسانی فائر بندی کی قرار داد پر عمل درآمد کا مشاہدہ کرنے کے متمنی ہیں، ترجمان اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارچ نے یومیہ پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ مشرقی غوطہ میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے فوجی آپریشنز جاری ہیں ، جس دوران بچوں اور خواتین سمیت کم از کم 30 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مشرقی غوطہ سے دمشق پر حملوں کے بھی جاری ہونے کا ذکر کرنے والے دوجارچ کا کہنا ہے کہ 19 فروری سے ابتک علاقے میں 500 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

انہوں نے “شام میں کن گروہوں کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھنے اور فائر بندی کے کن کن مقامات پر اطلاق” کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس بحث کے جاری ہونے کے وقت شام میں معصوم انسان بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں ، تمام تر طرفین کو انسانی امداد کی ترسیل کے لیے فائر بندی پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

دوجارچ نے روسی صدر ولادیمر پوتن کے مشرقی غوطہ میں روزانہ “پانچ گھنٹوں کا وقفہ” فیصلے کے اس ضمن میں بارآور ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ “5 گھنٹے نہ ہونے سے کافی بہتر ہیں لیکن ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 30 روزہ انسانی فائر بندی کی قرار داد پر عمل درآمد کا مشاہدہ کرنے کے متمنی ہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں