مصر کا تاریخی قبرستان جہاں سینکڑوں صحابہ کرام آسودہ خاک ہیں : تصاویر

لاہور: (ویب ڈیسک) مصرکی تاریخی سرزمین کواسلام کے ابتدائی دنوں کی جنگوں کے حوالے سے غیرمعمولی شہرت حاصل ہے۔ سعودی عرب کی طرح مصر وہ سرزمین ہے جہاں سینکڑ وں کی تعداد میں صحابہ کرام اور تابعین کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں۔

سعودی عرب کے “جنت البقیع” کی نسبت سے مصر میں “بقیع صحابہ” نامی ایک قبرستان موجود ہے جہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین آسودہ خاک ہیں۔ ان میں 70 بدری صحابہ بھی شامل ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ میں “بقیع صحابہ” پر تصاویر کی روشنی میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔

یہ قبرستان مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے جنوب میں 200 کلو میٹر دور المنیا گورنری کے البھنسا مرکز میں بنی مزارمیں موجود ہے۔ بقیع صحابہ میں کئی جلیل القدر صحابہ کی قبریں ہیں۔ ان میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک نواسے اور امام علی بن ابی طالب کے ایک نواسے کی قبریں بھی شامل ہیں۔ یہ جگہ بحر یوسف کے مغرب میں واقع ہے جو اپنے ٹیلوں اور قبرستانوں کی وجہ سے غیرمعمولی طور پرمشہور ہے۔ یہاں سے گذرنے والی ایک شاہراہ وادی النیل تک جاتی ہے۔ یہاں پر رومن دور کا ایک تھیٹر بھی موجود ہے جہاں 8 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔



ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے البھنسا کو”مدینۃ الشہداء” کا نام دیا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب اسلامی لشکرحضرت عمر بن العاص کی قیادت میں مصر میں داخل ہوا تو یہاں خون ریز لڑائی ہوئی۔ اس لڑائی میں بہت سے صحابہ کرام اور تابعین شہید ہوئے جس کے بعد یہ شہر فتح ہوا۔ ارض البھنسا میں موجود گنبد نما مقامات سے صحابہ کرام کی قبروں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ان گنبد نما قبروں میں محمد بن عقبہ بن عامر الجھنی، زیاد بن الحارس بن عبدالمطلب، حضرت علی کے نواسے ، حضرت عثمان کے نواسے اور عبادہ بن الصامت کی قبریں ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ یہ صحابہ کرام اس وقت شہید ہوئے جب عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے بحری پٹی، قاہرہ، الجیزہ اور اسکندریہ جیسے شہر فتح کرنے کے بعد الصعید کے علاقے کوفتح کرنےکی کوشش کی۔ انہوں نےالصعید پر لشکر کشی کے لیے خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب سے اجازت مانگی۔ حضرت عمر نے انہیں کہا کہ اگر تم الصعید فتح کرنا چاہتے ہو تو تمہیں البھنسا اور اھناسیا کے مقامات کو آزاد کرانا ہوگا۔ کیوں کہ یہاں ایک خون ریزی کرنے والا پادری موجود ہےاور یہ دونوں جگہیں رومیوں کا گڑھ ہیں۔ اگر یہ آپ کے ہاتھ آجاتی ہیں تو پورا روم تمہاری گود میں ہوگا اور اس کے بعد کوئی سر نہیں اٹھا سکے گا۔حضرت عمر کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد عمرو بن العاص نے البھنسا کی فتح کے لیے قیس بن الحارس المرادی کو لشکر دے کر روانہ کیا۔ مسلمان لشکر نے البھنسا اور القیس کے مقامات کا محاصرہ کیا۔ جب رومیوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے ایک بھاری لشکر کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔



مسلمانوں کی جانب سے خالد بن ولید کی قیادت میں ایک بڑا لشکر بھیجا جس میں عبداللہ بن زیر العوام، مقداد بن الاسود، ضرار بن الازور، عبداللہ بن عمر، عقبہ بن عامر اور کئی دوسرے جلیل القدر صحابہ شامل تھے۔ چنانچہ اس محاذ پر گھساون کی جنگ ہوئی ۔ بالآخر فتح مسلمانوں کا مقدر بنی اور رومنی لشکر بھاگ کھڑا ہوا۔ صحابہ کرام میں حضرت ابو ذر غفاری اور زبیر بن العوام نے وہیں سکونت اختیار کی۔ آج بھی ابو ذر غفاری اور زبیر بن العوام قبائل وہاں موجود ہیں جو ان دونوں صحابہ کرام ہی کی اولاد سمجھے جاتے ہیں۔





بشکریہ دنیا نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں