مصطفیٰ کمال لاہور پہنچ گئے، آج طاہرالقادری سے ملاقات کریں گے

ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، بیوروکریسی اور وزیر ایک شخص کو بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ کی میڈیا سے گفتگو
لاہور: (سنہرادور آن لائن) سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال لاہور پہنچ گئے، آج طاہرالقادری سے ملاقات کریں گے۔ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، بیوروکریسی اور وزیر ایک شخص کو بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
کراچی سے لاہور پہنچے کے بعد ائر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوِئے مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی بحران پیدا ہوچکا ہے وزیراعظم، ایک نا اہل شخص کو اپنا وزیراعظم مانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اس ملک میں سیاست نہیں کر سکتے، اعلی عدلیہ نے انہیں نااہل قراردیا ہے، اگر وہ اداروں کا حکم نہیں مانیں گے تو ملک نہیں چل سکتا۔ پاک سرزمین پارٹی ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑی رہنے والی جماعت ہے۔
ادھر چیئرمین پی ٹی آئی عمران نے بھی عوامی تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا طاہر القادری نے سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا تو بھرپور ساتھ دینگے، متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے پوری قوم باہر نکلے تا کہ ان کو سزائیں ہوں۔ انہوں نے کہا سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کے بعد شہباز شریف کا جھوٹ پکڑا گیا، رانا ثناء نے گولیاں چلانے کا حکم دیا، دونوں کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے۔
خیال رہے سابق صدر آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کا وفد بھی سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کر چکا ہے۔ وفد میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ، قمر الزمان کائرہ اور ڈاکٹر قیوم سومرو شامل تھے۔ دونوں جماعتوں کے چوٹی کے رہنماء اجلاس میں شریک ہوئے۔ عوامی تحریک کے وفد کی قیادت ڈاکٹر طاہر القادری نے کی۔ ان کے ساتھ خرم نواز گنڈا پور اور ڈاکٹر حسن محی الدین بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد قاتل اور منصوبہ ساز ایک بار پھر بے نقاب ہو چکے۔ سابق صدر آصف زرداری نے ماڈل ٹاؤن رپورٹ پر عوامی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ آصف زرداری نے کہا سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ مستعفی ہوں۔ انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا اب شہباز شریف کو برداشت نہیں کرینگے، سڑکوں پر نکلیں گے، سن لو شہباز شریف! جمہوریت وہ نہیں جو نواز اور شہباز چلا رہے ہیں، اداروں سے نہیں، شریفوں سے لڑیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں