معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

معروف قانون دان، سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر لاہور میں انتقال کرگئیں، انہیں گزشتہ شب طبیعت کی خرابی کے باعث نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔

اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کوبے ہوشی کے عالم میں اسپتال لایا گیا ، ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے انہیں برین ہیمرج ہوا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق بھرپور کوشش کی گئی کہ ان کی حالت سنبھل جائے لیکن بے ہوشی کی حالت میں ہی ان کا انتقال ہوا۔

عاصمہ جہانگیر کی عمر 66 برس تھیں، وہ 27 جنوری1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، وہ سپریم کورٹ بار کی سابق صدر بھی رہیں۔

انہوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے انسانی حقوق کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی۔ انہوں نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔

عاصمہ جہانگیر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور آخری مرتبہ انہوں نے 9 فروری کو پیش ہو کر عدالت کے روبرو دلائل دیے تھے۔

2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عاصمہ جہانگیر کو گھر میں نظربند کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ خاموش نہ بیٹھیں اور اس وقت کے صدر پروز مشرف کے فیصلے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

عاصمہ جہانگیر کو 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا جب کہ 1995 میں انہیں مارٹن انل ایوارڈ، ریمن میکسیسے ایوارڈ، 2002 میں لیو ایٹنگر ایوارڈ اور 2010 میں فور فریڈم ایوارڈ سے نوازا گیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق عاصہ جہانگیر کی نماز جنازہ منگل کو ادا کی جائے گی، ان کی ایک بیٹی لندن میں مقیم ہیں، اُن کی واپسی پر تدفین کی جائے گی۔

تعزیت کا اظہار

صدر مملکت ممنون حسین کا ممتاز قانون دان کے انتقال پر کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر نے قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےعاصمہ جہانگیرکےانتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے زبانوں،بےسہاروں اور ظالموں کے ستائے ہوئے مظلوموں کی آواز آج خاموش ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک ایک نڈر، بہادر اور اصول پسند شخصیت سے محروم ہو گیا، عاصمہ جہانگیر نے آمریت کو ڈٹ کر للکارا،پامالی کے خلاف بےجگری سے لڑیں،عاصمہ جہانگیر سچ کو بے دھڑک بیان کرنے کی روایت بنیں۔

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ جمہوریت،قانون و انصاف، انسانی حقوق،خواتین کے لیےمرحومہ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

نواز شریف نے کہا کہ عاصمہ جہانگیرآمروں کے خلاف ہر تحریک کے ہر اول دستے میں رہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کے لیے موثر آواز تھیں، ان کا انتقال بہت بڑا دھچکا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عاصمہ جہانگیر بہادر، بے باک اور نڈر خاتون تھیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ معروف قانون دان کا خلاء پر نہیں ہوسکے گا، اُن کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہوں۔

مسلم لیگ ن کی رہنمااور نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کی وفات سب کا نقصان ہے، ان کے اچانک انتقال سے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک جمہوری شمع سے محروم ہوگیا،عاصمہ جہانگیر جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا۔پیپلز پارٹی سوگ میں ہے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانی کے دھارے کے خلاف چلنے والی خاتون تھیں، ان کا انتقال بہت بڑا نقصان ہے۔

بختاور بھٹو نے سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کیا کہ انہیں عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں