معمہ:دماغی صلاحیت جانچے کا طریقہ؟

لندن ۔۔۔ معمہ یا بازیچہ ذہنی آزمائش کا ایک پرانا طریقہ سمجھا جاتا رہا ہے اور ان چیزوں میں بے شمار چیزیں ایسی بھی شامل ہوجاتی ہیں جو بظاہر معمہ نہیں لگتیں مگر بے حد پیچیدہ ثابت ہوتی ہیں۔ ایسی ہی چیزوں میں کراس ورڈ شامل ہیں۔ جو شطرنج نما ڈیزائن پر مختلف خالی اور بھرے ہوئے خانوں میں حروف ڈال کر کھیلے جاتے ہیں تاہم ان حروف کا بامعنی ہونا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ اب تک ماہرین نفسیات یہ کہتے رہے ہیں کہ جن لوگوں کی دماغی قوت یا ذہنی صلاحیت کمزور ہو وہ ایسی چیزوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔ اب جدید سائنسی تحقیق نے اس خیال کو کسی حد تک درست اور بڑی حد تک فرضی قرار دیدیا ہے۔ انکا کہناہے کہ کراس ورلڈ کھیلنے والے افراد کا ذہن بے جہتی کی بیماری ، ڈائمینشیا سے بالکل محفوظ تو نہیں رہ پاتا مگر ذہنی صلاحیت یقینی طور پر تیز اور بہتر ہوجاتی ہے۔ان خصوصیات کے باوجود یہ چیزیں کسی مریض کو مکمل طور پر تحفظ فراہم نہیں کرسکتیں۔ ماہرین نفسیات اور بصری سائنس پر دسترس رکھنے والے افراد اب تک علم عصبیات اس نظریہ کے قائل رہے ہیں ”استعمال کرو یا ہار جاﺅ“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مگر اب یہی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ ایسے پیچیدہ کام کرتے ہیں جن میں ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا پڑتا ہے ۔ ذرا سی توجہ سے ذہنی انحطاط سے بچ سکتے ہیں۔
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں