مفتی تقی عثمانی پر حملہ ،اہم شواہد مل گئے

کراچی … دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم مفتی تقی عثمانی پر دہشت گردانہ حملے کے دوران شہید ہونیوالے کانسٹیبل محمد فاروق کی نماز جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن ساوتھ میں ادا کردی گئی۔اس موقع پر پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی ۔نماز جنازہ میں گورنر سندھ عمران اسمعٰیل، وزیربلدیات سعید غنی،آئی جی ڈاکٹرسیدکلیم امام سمیت لوگوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔آئی جی سندھ نے شہید پولیس اہلکارکے اہل خانہ سے تعزیت اوریکجہتی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ قاتل جلدقانون کی گرفت میں ہونگے۔ مفتی تقی عثمانی پر حملے کے حوالے سے اہم شواہد اور کڑیاںملی ہیں۔ جو میڈیا سے شیئر نہیں کرسکتے۔ ملزمان کے خلاف تفتیش اور چھان بین کے عمل کو موثر بناکر متاثرہ خاندانوں کوانصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ جرائم کے خلاف پولیس ہمہ وقت مستعد اور متحرک ہے۔ ایسے دہشت گردانہ اوربزدلانہ حملوںکاروائیوں سے پولیس کے عزائم اورحوصلوں کو پست نہیں کیا جاسکتا۔اس موقع پر انہوں نے شہیدکانسٹیبل کے ورثاءکے لئے تمام مروجہ مراعات کااعلان کیا ۔ دریں اثنا ءذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں 6 دہشت گرد شامل تھے۔موٹرسائیکل سوار 2 دہشت گردوں نے مفتی تقی عثمانی کا دارالعلوم کورنگی سے تعاقب کیا۔ان ہی دہشت گردوں نے نیپا فلائی اوور سے اترتے ہی مفتی تقی عثمانی کی گاڑی پر فائرنگ بھی کی۔ گاڑی پر 2 مرتبہ 3اطراف سے قاتلانہ حملہ کیا گیا۔فائرنگ کیلئے نائن ایم ایم پستول استعمال کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں