مقتدر طبقہ آئین کو زیر اثر رکھنا چاہتا ہے،لیا قت بلوچ

جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ آج ہر عوامی مسئلہ پر چیف جسٹس آف پاکستان کونوٹس لینا پڑتا ہے ، اس ناکامی کے ذمہ دار فوجی ڈکیٹیٹراور پاکستان کے اقتداد میں رہنے والی سیاسی جماعتیں ہیں ، مقتدر طبقہ آئین کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے ۔

ملتان میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں لیاقت بلوچ نے کہاکہ پورے سیاسی کلچر کو بدلنا ہر نوجوان کے لئے بڑا چیلنج ہے، پاکستان کا نوجوان اپنے مسائل کا حل اسلام میں سمجھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا گیا ہے، پاکستان بنانے کی جدوجہد کرنے والوں نے کلمہ کی بنیاد پر آزادی کی خاطر جانوں کے نذرانے دئیے تھے، ہمارے منبر و محراب پر حملہ کر کے اسلام کو کمزور کیا گیا ہے ۔

لیاقت بلوچ کا کہناتھاکہ یہاں کے لوگ محنتی ہیں ، لیکن اس کے باوجود قرضوں کی لعنت کے باعث غیر ملکی قوتیں ہمیں اپنا غلام سمجھتی ہیں ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے نوجوانوں کو انقلابی پیغام دیا ہے ، ہمارے نوجوانوں کے بازو ہر ظلم کرنے والوں کے خلاف اٹھیں گے ۔

جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما نے کہا کہ ہمیں جموریت کو یرغمال بنانے والوں کو توڑنا ہے، آئین کی بالا دستی ، جمہوری عمل پاکستان کے لئے ناگزیر ہے ، جاگیر دارانہ ، سرمایہ دارانہ نظام سے نجات پانا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو قرآن و سنت اور شریعت کے نظام کی ضرورت ہے ،جوانوں کے تعاون سے ہم تاریخ مرتب کریں گے، جوانوں سے توقع رکھتا ہوں کہ مقصد اور نظریہ کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں