”ملالہ کھوتی۔۔۔ یہ مسلمانوں کی بیٹی نہیں ہو سکتی کیونکہ۔۔۔“ خادم حسین رضوی نے ملالہ پر ’حملہ‘ کر دیا، ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): ملالہ یوسفزئی ان دنوں پاکستان کے 5روزہ دورے پر موجود ہیں اور اس وقت اپنے آبائی علاقے سوات میں موجود ہیں۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی سے متعلق اپنے ایک بیان میں خادم رضوی انہیں کافروں کی زبان بولنے والی قرار دے چکے ہیں۔ خادم رضوی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مسلمانوں کی بچیاں ایسی نہیں ہوتی۔ خادم رضوی کے بیان کی ویڈیو ملالہ یوسفزئی کےپاکستان آنے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا سائٹس پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اپنے بیان میں خادم رضوی کا کہنا تھا کہ ”جو قوم بہنوں اور بیٹیوں کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتی تھی آج ان کیساتھ بیٹھ کر فلمیں دیکھتی ہے اور پھر ملالہ کی بات کرتے ہیں۔ ملالہ ’کھوتی’ نے کیا کرنا تھا، اس نے تو ایسا ہی کرنا تھا، جو کافروں نے بولیاں بولنی تھیں وہ اتنی سی بچی بول پڑی۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کو سلمان رشدی کیخلاف احتجاج نہیں کرنا چاہئے تھا۔ جو بولی کافروں نے بولنی تھی، وہ اتنی سی لڑکی نے بول دی، کبھی اوباما اس کیساتھ ملاقات کر رہا ہے، کبھی کسی پارلیمینٹ میں خطاب کر رہی ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کی بیٹیاں ایسی نہیں ہوتیں، مسلمانوں کی بیٹیاں ایسی ہوتی ہیں جیسی میں آپ کی بات سنانے لگا ہوں۔ حضرت محمد بن سلیمان جزولی ظہر کی نماز پڑھنے گئے، ایک کنویں پر گئے وہاں نہ ڈول اور نہ رسی تھی، وہ کنویں کا چکر لگانے لگے، قریب کے مکان میں چھوٹی سی بچی یہ منظر دیکھ رہی تھی کہ شیخ پریشان ہیں۔ اس نے آواز دیکھ کر پوچھا کہ حضرت کیوںپریشان ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ ظہر کی نماز پڑھنی ہےاور وقت بہت کم رہ گیا ہے جبکہ میں نے ابھی وضو بھی کرنا تھا مگر کنویں پر نہ ڈول ہے نہ رسی ہےجس سے میں وضو کیلئے پانی نکال سکوں۔ اس پراس بچی نے کہا کہ ذرا ٹھہریں میں آ رہی ہوں۔وہ بچی آئی اور اس نے کنویں کے کنارے کھڑے ہو کر اس میںتھوکا تو کنویں کا پانی ابل کر باہر آ گیا۔ کنواں چشمہ بن گیا، پانی کنویں سے باہر بہنےلگ گیا،حضرت محمد بن سلیمان جزولی نے وہاں سے وضو کیا اور نماز ظہر پڑھی، نماز پڑھنے کے بعد حضرت محمد بن سلیمان جزولی نے اس بچی کے گھر جا کر دستک دی اور کہا کہ بچی باہر آؤ، میں نے تم سے کچھ بات کرنی ہے جس پر اس بچی نے کہا کہ بابا میں نے آپ کا کام کر دیا ہے، میں غیر محرموںسے نہیں ملتی۔اب علماءجمعہ کے دوران بھی اس پر بیان نہ کریں تو پھر قیامت کے دن حضور کو کیا جواب دیں گے کہ مسلمانوں عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے حج کے دوران صفا و مروہ پر دوڑنے سے بھی منع کر دیا جبکہ ہماری پاکستانی خواتین کی ٹیم پچھلے دنوں کبڈی میچ کھیلنے انڈیا گئی ہوئی تھی۔ اب یہ بھی کیا سیاست ہے؟علما اس پر بیان کریں ورنہ روز محشر حضورؐ اور اللہ کو کیا جواب دینگے۔
ویڈیو ملاحظہ کریں:

اپنا تبصرہ بھیجیں