ملک ریاض کو بولنے کاشوق ہے تو وہ بھی آ جائیں۔ چیف جسٹس

جو لوگ حکمرانی کا حق نہیں رکھتے وہ کیوں بیٹھے ہیں۔30اکتوبر کو عدالت نے حکم دیا لیکن کابینہ نے ابھی تک عمل نہیں کیا۔ اراضی واگزار کروانے سے متعلق سندھ حکومت کی کارگردگی پر عدالت برہم

سپریم کورٹ میں سندھ میں جنگلات کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اراضی واگزار کروانے سے متعلق سندھ حکومت کی کارگردگی پر عدالت برہم ہو گئی۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین کیسے ملی؟۔اراضی پر قبضہ کیا گیا چھڑاتے کیوں نہیں؟ جسٹس فیصل عرب نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات سے زمین الاٹ کی جا رہی ہے۔
جب کہ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ملک ریاض کو بولنے کا شوق ہے تو وہ بھی آ جائیں۔چیف جسٹس نے کہا سوچا نہیں تھا کہ حکومت غیر قانونی کام تسلیم کرے گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جو لوگ حکمرانی کا حق نہیں رکھتے وہ کیوں بیٹھے ہیں۔30اکتوبر کو عدالت نے حکم دیا لیکن کابینہ نے ابھی تک عمل نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے وکیل کو التوا نہیں دیں گے۔

عدالت نے تمام فریقین کو7 جنوری تک جواب دینے کی ہدایت کر دی۔خیال رہے کچھ ماہ قبل سندھ میں جنگلات کی تباہی اور ان کی غیرقانونی کٹائی کیخلاف حیدرآباد میں احتجاج بھی کیا گیا تھا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے زین داؤد پوتہ، پنہل ساریو، مہیش کمار اور دیگر نے کہاکہ سندھ میں ایک منظم سازش کے تحت لاکھوں ایکڑ زمین پر پھیلے جنگلات کو ختم کرکے زمینوں پر قبضے کئے جارہے ہیں۔
سندھ کے 90 فیصد کچے اور پکے کے جنگلات کو ختم کرکے ان کی زمین پر قبضے کئے گئے ہیں ، جنگلات کی تباہی کا آغاز 2004ء میں اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے دور میں شیرازی برادران نے شروع کیا ، 2010ء میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں شرجیل میمن نے اسے اپنے انجام تک پہنچایا۔ محکمہ جنگلات میں سیاسی مداخلت کے ذریعے سیکریٹری اور دیگر افسران کا تقرر کیا جاتا ہے جو کروڑوں روپے رشوت دے کر پوسٹنگ حاصل کرتے ہیں اور پھر خالی زمینوں پر قبضے کرکے جنگلات کو تباہ کررہے ہیں، جنگلات کے ختم ہونے سے ماحولیات تباہ ہورہی ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے، سندھ میں محکمہ جنگلات کی 8لاکھ ایکڑ زمین نجی تحویل میں دی جاچکی ہے جس کے ذمہ دار محکمہ جنگلات کے کرپٹ حکمران ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں