ملی جلی جلد کی حفاظت کیسے ؟

روزمرہ زندگی میں معمولی سی احتیاط اور تدبیر سے آپ اپنی جلد کو مزید خوبصورت بنا سکتے ہیں

لاہور: ملی جلی جلد کی نگہداشت یقینا ایک مسئلہ ہے کیونکہ ایسی جلد میں خشک اورچکنی جلد کے بدترین خدوخال پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ متوازن لائحہ عمل اختیار کرنیکی کوشش کرنی چاہیے ۔تاکہ چکنائی بھی ختم ہو جائے اور خشک حصوں کی خشکی دور ہو جائے ۔یعنی چکنے حصے خشک ہو جائیں اور خشک حصے چکنے ہو جائیں۔ ایسی صورتحال میں دو طرح کی سکن کیئر روٹین اپنانا پڑتی ہے اور دو مختلف حصوں کے لیے دومختلف جلدوں کا طرزعمل اپنایا جاتا ہے۔ جب آپ دونوں اقسام کی خصوصیات سمجھ جائیں گی اور درست کاسمیٹکس کا انتخاب کرنا سیکھ لیں گی تو ملی جلی جلد کی کلینزنگ انتہائی آسان ہو جائے گی۔

ملی جلی جلد کی دیکھ بھال کے لیے بھی سب سے پہلے کلینزنگ کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ خشک حصے ری ہائیڈرینٹ جیل سے گیلی روئی کے ساتھ دھوئیں۔ جلد کے چکنے حصوں پر میڈیکیٹڈ سوپ لگائیں اورپھر پانی سے دھوئیں۔ ان حصوں پر بیوٹی گرین (بیسن، بھوسی یا مسور کی دال وغیرہ) اور سکن ٹانک کا مسکچر ملیں جن پر بلیک ہیڈز پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ کچھ دیر کے بعد پانی سے دھو ڈالیں اور پھر پورے چہرے کو سکن ٹانک سے ٹون کریں۔ سکن ٹانک روئی کی گدی سے لگائیں پھر جلد کو تیزی سے تھپتھپائیں۔ یہ کلینزنگ روٹین صبح اور پھر رات کو سونے سے پہلے اپنائیں۔ رات کے وقت اپنے معمول کی نائٹ کیئر روٹین میں خشک حصوں پر نریشنگ کریم سے ہلکا سا مساج بھی شامل کریں۔ کوئی ایسی پراڈکٹ منتخب کریں جو زیادہ چکنی نہ ہو۔ نائٹ کیئر روٹین میں گردن کی کلینزنگ اور مساج بھی شامل کریں۔ بیس منٹ بعد گیلی روئی سے کریم صاف کر دیں۔

آنکھوں کے اردگرد ایلمنڈ انڈر آئی کریم لگائیں اور دس منٹ کے بعد گیلی روئی سے پونچھ دیں۔ اگر جلد کے چکنے حصوں پر دھبے یا کیل ہوں تو اینٹی پمپل لوشن (Anti Pimple Lotion) لگائیں اور اسے رات بھر لگا رہنے دیں۔ اگر ایکنی کے داغ رہ گئے ہوں تو داغوں پر Anti Blemish Ointment ملیں اور رات بھر لگا رہنے دیں۔جلد کی دونوں اقسام کے لیے چند کاسمیٹکس ایڈز بھی درکار ہوتی ہیں۔ ایک موزوں سن سکرین، جلد کو ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب بھی جلد خشک ہوتی ہوئی محسوس ہو تو کوئی ہلکا پھلکا لیکوئیڈمائسچرائزر استعمال کریں۔ عرق گلاب پر مشتمل کوئی سکن ٹانک زیادہ مفید رہتا ہے۔ سکن کیئر روٹین، فیس ماسک کے بغیر ناممکن رہتی ہے۔ کسی بھی ماسک کا انتخاب ضرورت کے مطابق کریں۔ اگر ایکنی یا پھنسیاں اور کیل ہوں تو میڈیکیٹڈ ماسک ہی مناسب رہتا ہے۔
Courtesy: Roznama Dunya

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں