موبائل فونز کی رجسٹریشن کا دورانیہ 60 روز کرنے کی سفارش

اسلام آباد: سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے درآمد کیے گئے موبائل فونز کی رجسٹریشن کا دورانیہ تیس روز سے بڑھا کر ساٹھ روز کرنے کی سفارش کر دی ہے جبکہ موبائل کی درآمد پر ٹیکسز ڈیوٹیز بھی کم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سینٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے موبائل رجسٹریشن کے حوالے سے صارفین کو مشکلات پر تحفظات کا اظہار کیا۔

چیئرپرسن کمیٹی روبینہ خالد نے کہا کہ رجسٹریشن کے حوالے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جب بغیر تیاری کے کام شروع کیا جائے گا تو ایسا ہو گا۔ باہر سے لائے گئے موبائل فونز کی رجسٹریشن کا دورانیہ کم ہے۔

سینٹر تاج آفریدی نے کہا کہ ڈیوٹیز بڑھانے سے موبائل فونز کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا۔ مولانا غفور حیدری نے کہا کہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز بڑھانے سے تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑے گا۔

سینیٹر عتیق شیخ کا کہنا تھا کہ کابینہ اور وزیراعظم کو موبائل رجسٹریشن کے حوالے سے گمراہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے تجویز دی کہ استعمال شدہ موبائل فونز کے ٹیکسز کے لیے الگ طریقہ کار اپنایا جائے۔ وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایک ایسا طریقہ کار نکالنا چاہیے جس سے غریب صارفین پر کم بوجھ پڑے۔

کمیٹی کی چئیرپرسن سینٹر روبینہ خالد نے کہا کہ استعمال شدہ اور نئے موبائل فون پر ڈیوٹز کے بارے میں وضاحت کی جائے۔ رجسٹریشن کے حوالے سے لوگ خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں