موبائل فون کا شوق، سہیلیوں کے پیغامات کی ریل پیل، امتحان میں فیل

عنبرین فیض احمد ۔ ینبع
آج ماہم جب کالج سے گھر واپس آئی تو گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے ابو سے مخاطب ہوکر بولی کہ آج آخری بار آپ سے گزارش کررہی ہوں اگر مجھے کل تک موبائل نہ ملا تو میںہرگز کالج نہیں جاﺅں گی۔ آپ کو معلوم ہے میری سہیلیاں روزانہ اپنے مہنگے موبائلوں کو میری طرف اچھال اچھال کر میرا منہ چڑاتی ہیں۔ اب مجھ میں مزید حوصلہ نہیں کہ انکے طنز کا نشانہ بنتی رہوں۔ ماہم نے یہ ساری باتیں ایک ہی سانس میں ابو کے گوش گزارکیں اوراپنے کمرے کا رخ کرلیا۔
ادھر ماہم کی امی کھڑی سارا تماشا دیکھ رہی تھیں۔ وہ جلدی سے اپنے میاں کے پاس آئیں اور اپنی بیٹی کے مطالبے اور رویے پر دونوں میاں بیوی غور کرنے لگے۔ ماہم کے والد کا موقف تھا کہ اس وقت ماہم کو موبائل فون رکھنے کی قطعی ضرورت نہیں اور اسے اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔ موبائل یا دیگر فضولیات کے ساتھ کھیلنے کیلئے بہت وقت پڑا ہے مگر پڑھائی کیلئے وقت محددو ہے۔ انسان کو ا پنے کریئر پر توجہ دینی چاہئے لیکن ماہم کی امی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے میاں کو کیا مشورہ دیں۔ وہ خوداپنی بیٹی کے رویے کو دیکھ کر پریشان ہوگئی تھیں۔ آخر میاں بیوی کے مشورے سے یہ طے پایا کہ بیٹی کی ضد کے آگے سر تسلیم خم کرلینے میں ہی عافیت ہے ورنہ گھر میں روزانہ ایک نیا تماشا ہوتا رہے گا۔
جب ماہم کو معلوم ہوا کہ اس کے ابو راضی ہوگئے ہیں تو اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ دوسرے ہی دن مارکیٹ سے موبائل ہاتھ میں لئے خوشی کے عالم میں قلابازیاں کھاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ حقیقت میں اسکے پاس موبائل فون بھی آسکتا ہے۔ کہیں وہ خواب تو نہیں دیکھ رہی۔ پھر وہ موبائل لیکر کالج گئی اور سارا دن اپنا مہنگا موبائل سہیلیوں کو دکھا دکھا کر انکا منہ چڑاتی رہی۔
ماہم کا موبائل فون کا شوق پورا ہو چکا تھا،دن یونہی گزرتے چلے گئے اور بات پرانی ہو گئی۔ اب اسکی پڑھائی میں دلچسپی بھی کم ہونے لگی تھی۔ وہ زیادہ تر وقت موبائل پر ہی صرف کرتی تھی۔ سہیلیوں کے پیغامات کی ریل پیل تھی چنانچہ وہ کبھی کسی کو ایس ایم ایس کرنے اورکسی کو واٹس ایپ کرنے میں مصروف رہتی۔ کبھی سہیلیوں سے باتیں کرنے میں وقت ضائع کرتی۔امتحانات سر پر تھے اور کتابوں کا پلندہ میز پر بکھرا ہوا تھا مگر ماہم کرسی سے سر ٹکائے اپنی کسی سہیلی سے باتوں میں مصروف تھی۔ ایک کے بعد ایک سہیلی سے بات ہورہی تھی۔ رات بھر ماہم کے کمرے کی لائٹ جلتی رہی۔ والدین یہ سمجھتے رہے کہ انکی بیٹی کتنی محنت کررہی ہے ، راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھ رہی ہے ۔ ماں باپ دونوں اس کے لئے دعا گو رہتے کہ اللہ پاک انکی بیٹی کو کامیابی عطا فرمائے مگر انہیں کیا معلوم تھاکہ انکی بیٹی انہیں ہی دھوکہ دے رہی ہے۔ اگر ماہم کی امی اس کے کمرے میں آتیں اور دریافت کرتیں کہ کسی کا فون آیا تھا یا کس سے بات کررہی تھیں تو ماہم فوراً جواب دیتی کہ کسی کا فون نہیں تھا، امی وہ کوئی ”رانگ نمبر تھا“ ۔
اسی دوران امتحانات بھی ہوگئے ۔جب اس کے والدین نے اس سے پوچھا کہ ماہم امتحان تو بہت اچھے ہوئے ہونگے تم نے تو بے حد محنت کی ہے مگر جب ماہم کا نتیجہ آیا تو وہ ہر مضمون میںتقریباً فیل تھی ۔امتحان میں ناکامی اور موبائل فون کی دستیابی کے باعث ماہم کا پڑھائی لکھا ئی سے دل اچاٹ ہوچکا تھا۔ اس کے ابو کو اس بات کا بے حد صدمہ ہوا ۔ وہ سوچنے لگے کہ اگر میں نے ماہم کو موبائل نہ دلایا ہوتا تو شاید آج میری بیٹی اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرلیتی۔ کوئی ضروری نہیں کہ بچوں کی ہر ضد پوری کی جائے۔ بعد میں جس کا خمیازہ نہ صرف بچے بلکہ والدین بھی بھگتتے ہیں۔اس کا اندازہ انسان کو وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔
موبائل فون اور انٹرنیٹ دور جدید کی چند ایسی اہم ایجادات میں شامل ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کا رخ یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ چند سال کے مختصر عرصے میں ساری دنیا موبائل فون اور انٹرنیٹ کے زیر تسلط آچکی ہے ۔یوں کہئے کہ ساری دنیا موبائل فون اور انٹرنیٹ کی اسیر ہوچکی ہے۔ کیا چھوٹا کیا بڑا، کیا مرد، کیا عورت ہر، کوئی اپنے آپ کو موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بغیر ادھورا محسوس کرنے لگا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے معلومات کا ایک نہ تھمنے والا سیلا ب امڈتا چلا آرہا ہے جس کی وجہ سے ساری دنیا آج آپس میں باہم مربوط ہوچکی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا ایک عالمی قریے میں بدل گئی ہے لیکن ساتھ ہی انٹرنیٹ اور موبائل فون یقینا آج کی اہم ایجادات میں شامل ضرور ہیں لیکن نقصان والے پہلوﺅں کی بناءپر انسانی زندگیوں کیلئے یہ سوہان روح اور مہلک بنے ہوئے ہیں ۔ خاص کر نوجوانوں میں ایک ناسور کی طرح پھیلتی ہوئی بے چینی ، بے راہ روی اور دیگر معاشرتی مسائل کے سر اٹھانے سے انٹرنیٹ اور موبائل فونز کے بے جا اور غیر ضروری استعمال کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے نقصانات ایسے ہیں جو ہم معاشرے میں نہ صر ف دیکھ رہے ہیں بلکہ اکثر جھیل بھی رہے ہیں ۔ ان نقصانات سے بچنے کیلئے کچھ ایسی تدابیر اور ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ہم اپنی ضرورت کی اس چیز کو استعمال میں تو لائیں مگر معاشرے پر پڑنے والے اس کے برے اثرات سے بچیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل لیکر دینے سے پہلے اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ آیا انکے بچے کو موبائل کی ضرورت ہے یا نہیں۔ پھر اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے موبائل کا استعمال کس طرح کررہے ہیں اور کس سے گفتگو کررہے ہیں اور گفتگو کا موضوع کیا ہے۔ بچوں کی غیر موجودگی میں انکے موبائل چیک کریں کہ وہ اپنے فون کا کہیں غلط استعمال تو نہیں کررہے ؟اس کے علاوہ تمام نوجوانوں کو خود بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنا قیمتی وقت ان فضول کاموں اور غیر اخلاقی حرکات میں ضائع نہ کریں کیونکہ ان سے حاصل کچھ نہیں ہوتا ۔پچھتاوے اورملال کے سواکچھ نہیں ملتا ہے ۔
آج کے دور میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسے معصوم بچے جنہوں نے ابھی بولنا بھی شروع نہیں کیا ہوتا، موبائل اور ٹیبلٹ استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہناہے کہ بچوں میں موبائل فونز کے استعمال کی صحیح عمر کا تعین کرنا خود ان کے لئے بہت ضروری ہے۔ بچوںکی نفسیات کے ماہرین کا کہناہے کہ جس طرح آج کل مائیں بچوں کو چپ کرانے اور اپنے کاموں سے جلدفراغت کے چکر میںانکے ہاتھ میں موبائل اور ٹیبلٹ تھما دیتی ہیں،وہ سراسر غلط ہے۔ اس سے بچوں کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ بہت سی ایسی جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں میںٹھیک سے حصہ نہیں لے پاتے جو زندگی کے اس موقع پر بے حد ضروری ہوتی ہیں۔ان میں خاص طور پر تعلیم و تدریس سے لیکر کھیل کود تک متعدد سرگرمیاں شامل ہیں جن میں بچوںکی صحت اور سیکھنے کی صلاحیت کے مراحل کو بہتر بنانے کیلئے ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ گو کہ موبائل کا مسلسل استعمال تو ہر عمر کے افراد کیلئے خطرے کا باعث ہوتا ہے مگر بچوں پر اس کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں