مہنگائی بڑھ گئی، برآمدات کم، وجوہ کا جائزہ لے رہے ہیں، 6 ماہ میں بہتری ہوگی، مشیر تجارت، پچھلے دور میں کونسی دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں، وزیر مملکت ریونیو

لاہور: مشیر تجارت عبدالرزاق دا ؤد نےمہنگائی میں اضافے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات میں شک نہیںکہ مہنگائی بڑھ گئی ہے جبکہ مارچ میں برآمدات کم ہوئی ہیں ‘ وجوہات کا جائزہ لے رہے ہیں ‘آئندہ دو سال میں برآمدات بڑھ جائیں گی‘اس کیلئے ہمیں مزید محنت کرنا ہوگی ‘ایشین ٹائیگر بننے کیلئے انتھک محنت کی ضرورت ہے ‘ قوم تھوڑا صبر کرے‘ آئندہ 6 ماہ میں مزید بہتری آئیگی ہے‘ کوشش ہے سپلائی چین بہترہوجائے‘ پاکستان آگے بڑھے گا اور مشکلات جلد دور ہوجائیں گی جبکہ وزیر مملکت برائے ریونیوحماد اظہر کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں ضرور اضافہ ہوا ہے اور ہمیں احساس بھی ہے لیکن مہنگائی کی یہ شرح اب بھی ان کے دور سے کم ہے‘ گزشتہ حکومتوں نے معیشت کا بیڑہ غرق کیااسے ٹھیک کرنے کیلئے وقت درکار ہے‘ن لیگ دورمیں کونسی دودھ اورشہد کی نہریں بہہ رہی تھیں‘ آصف زرداری ، اومنی اور حمزہ

شہبازکے کیس میں زیادہ فرق نہیں‘یہ جتنا مرضی چیخ لیں این آراو نہیں ملے گا‘اگلے ڈیڑھ سال معیشت پر مزید بھاری گز ریں گے ۔ جمعرات کو لاہور میں ٹیکسٹائل نمائش کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالرزاق دا ؤد نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں ملکی برآمدات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے، آئندہ 2 سے 3 سال میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا، دنیا کے متعدد ممالک کے مطابق پاکستانی مصنوعات کا معیار بہتر ہے، یورپ کے بہت سے ممالک کا کہنا ہے کہ پاکستان ابھی آگے جائے گا‘برآمدات بڑھانے کیلئے ہمیں مزید محنت کرنا ہو گی‘ مہنگائی بڑھنے کے محرکات کا جائزہ لے رہے ہیں‘مارچ میں برآمدات کم ہوئیں، وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنوری، فروری میں برآمدات بڑھ رہی تھیں مارچ میں اچانک گریں۔ جب تک پوری لائن صحیح نہیں چلے گی رکاوٹیں آئیں گی۔مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ چیلنجز ہیں ہمیں سوچنا ہوگا کہاں سے بہتری آنی چاہئے ‘پاکستان اور چین کے مابین آزادنہ تجارت کے معاہدے کیلئے دوسرا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے انشاء اللہ وزیراعظم عمران خان کے 28اپریل کو چین کے دورے کے دوران آزادانہ تجارت کے معاہدے پر دستخط ہوں گے ،ٹیکسٹائل پالیسی رواں ماہ کے آخر تک تشکیل پا جائے گی،پاکستان کوایشین ٹائیگربننے کیلئے انتھک محنت کی ضرورت ہے لیکن اس کیلئے کتنی مدت درکار ہوگی اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ نواز شریف دورمیں کونسی دودھ اورشہد کی نہریں بہہ رہی تھیں اس وقت مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کرگئی تھی، پاکستان کی سمندری حدود میں تیل و گیس کاذخیرہ نکل آیاتو یہ دنیاکے دس بڑے تیل وگیس کے ذخائر میں سے ایک ہوگا ‘انہوں نے کہا کہ معیشت کو ریسکیو کیا ہے ، آئی سی یو سے نکال کر جنرل وارڈ میں لے آئے ہیں، فیصل واوڈانے اس گیس ذخیرےکےنکلنے سےمتعلق نوکریوں والی بات کی تھی، جتنا مرضی آپ مولانا فضل الرحمان سے مل لیں این آر او نہیں ملے گا،اسحاق ڈارنےمئی 2017تا مئی 2018 تک اسٹاک ایکسچینج نیچےآنے کی وجہ نہیں بتائی‘ اپنے کیسز سے نظر ہٹانے کے لیے یہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، حماد اظہر نے کہا کہ حکومت کسی قسم کا کوئی این آر او نہیں دے گی آپ کچھ بھی کرلیں، آصف زرداری ، اومنی اور حمزہ شہبازکے کیس میں زیادہ فرق نہیں ہےڈی ویلیوویشن کی کہانی سنا کر قوم کو گمراہ نہ کریں ،اسحاق ڈار صرف قوم سے ہی نہیں اپنی پارٹی قیادت سے بھی جھوٹ بولتے رہے ہیں۔حمزہ شہباز جتنا مرضی مولانا فضل الرحمان اور زرداری سے بغل گیر ہو جائیں، این آر او نہیں ملے گا،قوم کے سامنے آپ کی حقیقی شکل آ گئی ہے‘ قوم کو غلط اعداد و شمار نہ دیں اپنے کیسوں کاسامنا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں