میرپورخاص میں بچہ بدلنے کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا

میرپورخاص سول اسپتال میں مبینہ طور پر نومولود لڑکے کو لڑکی سے بدلنے کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

میرپورخاص کے رہائشی عبداللہ خان نامی شخص کی جانب سے سول اسپتال عملے پر نومولود لڑکے کو لڑکی سے بدلنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، یہ واقعہ 25 جنوری کو پیش آیا جس کے بعد اسپتال انتظامیہ نے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی قائم کردی تھی۔

انکوائری کمیٹی کے چیئرمین کاکہناہےکہ مزکورہ گھرانے میں لڑکی ہی پیدا ہوئی تھی معاملہ غلط فہمی کا نتیجہ ہےجبکہ گائنی والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غلطی میں کہہ دیاتھا کہ یہ لڑکا ہےلیکن یہ لڑکی ہی تھی، ویکیوم ڈیلیوری تھی جس کےنشانات بچی پر موجود ہیں۔

متاثرہ خاندان نے انکوائری کمیٹی کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کرکے ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

میر پور خاصکے سول اسپتال اور پریس کلب کے سامنے بچے کی تبدیلی کے خلاف پرامنمظاہرہ کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ اگر اُن کی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی توپھر وہ کورٹجائیں گے اور ان ظالموں کےخلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے۔

سول اسپتال انتظامیہ اور متاثرہ خاندان کے متضاد موقف اور احتجاج نے صورتحال مزید گھمبیر بنادی ہے۔ تاہم محکمہ صحت کے حکام کےمطابق اب ڈی این اے ٹیسٹ سے ہی صورتحال واضح ہوسکتی ہے جس میں مزید 2سے 3ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں