نئی گاڑیاں خریدتے وقت یہ غلطیاں کرنے سے بچیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت کی شرح میں ہر گزرتے برس کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور اکثر افراد پرانی کی جگہ نئی گاڑیوں کو خریدنا پسند کرتے ہیں۔اس کی وجہ بھی واضح ہے اور وہ ہے بیشتر شہروں میں مناسب ٹرانسپورٹ نظام کا فقدان ہے۔تاہم گاڑی خریدنے کے عمل کے دوران اکثر افراد غلطیاں کرجاتے ہیں جو ان کی اس بھاری سرمایہ کاری کو ضائع کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اگر آپ بھی جلد نئی گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان غلطیوں سے بچیں۔

ری سیل ویلیو کا خیال نہ کرنا

ہوسکتا ہے کہ چند سال بعد آپ اپنی گاڑی کو فروخت کرنے کا فیصلہ کریں، تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے چند چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے، سب سے پہلے تو گاڑی کی کمپنی کا نام اہمیت رکھتا ہے۔ مارکیٹ میں متعدد برانڈز ہوتے ہیں جن میں سے کچھ زیادہ جبکہ کچھ کم مقبول ہوتے ہیں۔ اسی طرح آپ کو گاڑی کے فیچرز اور انجن کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جبکہ رنگ کو بھی نہ بھولیں۔ سفید، سیاہ یا سلور گاڑی کو فروخت کرنا شوخ رنگ کی سواریوں کے مقابلے میں آسان ہوتا ہے۔

گاڑی کی مینٹینینس مہنگی ہوسکتی ہے

بیشتر افراد گاڑی خریدتے وقت صرف قیمت کو مدنظر رکھتے ہیں، وہ مستقبل کی تیکنیکی سروس، انشورنس یا دیگر اخراجات کے بارے میں نہیں سوچتے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ اخراجات بڑھتے چلے جاتے ہیں اور آمدنی پر بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گاڑی خریدتے وقت ان امور کو مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ وہ بعد میں مسئلہ نہ بن جائے۔

آپشنل چیزوں پر خرچہ

گاڑی خریدتے وقت آپ کو سوچنا چاہیے کہ آپ کو درحقیقت کن اشیاءکی ضرورت ہے کیونکہ بیشتر اضافی اشیاءبہت مہنگی ہوتی ہیں اور اکثر ان کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر کچھ ڈرائیورز تمباکو نوشی نہیں کرتے تو انہیں ایش ٹرے کی جرورت بھی نہیں ہوتی، تمام حفاظتی ڈیوائسز اہم ہوتی ہیں تو ان کا انتخاب کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

گاڑی کا سال بھی اہمیت رکھتا ہے

صرف اس گاڑی کو خریدنے کی کوشش نہ کریں جو حال ہی میں ریلیز ہوئی ہو، ہوسکتا ہے، درحقیقت اکثر کمپنیاں کسی نئی گاڑی کے اولین 3 سال کے دوران اس کے مسائل اور نقائص کا تجزیہ کرتی ہیں تاکہ مستقبل میں گاڑیوں کو بہتر بناسکیں۔ تو اس گاڑی کا انتخاب زیادہ بہتر ہے جو 3 سال سے زیادہ پرانی نہ ہو اور مارکیٹ میں مشہور بھی ہو۔

بہت بڑی یا چھوٹی گاڑی چننا

اکثر افراد جب گاڑی خریدتے ہیں تو اپنی ذاتی ترجیحات کا خیال نہیں کرتے بلکہ یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ کتنی مرتبہ وہ گاڑی پر لمبا سفر کریں، کتنے مسافر سوار ہوسکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو صرف شہر میں ہی گاڑی کی ضرورت ہے تو ایسی سیڈان کے بارے میں سوچیں جو زیادہ ایندھن نہ کھاتی ہو، اگر آپ کا خاندان بڑا ہے اور زیادہ سفر کرتے ہیں تو منی وین یا ہیچ بیک کا انتخاب کریں، ایس یو ویز ان افراد کے موزوں ہیں جو اکثر لمبا سفر کرتے ہیں۔

گاڑی کی تیکنیکی خصوصیات مدنظر رکھیں

اگر تو آپ بہت امیر ہیں تو لگژری گاڑی خریدنا اچھا آپشن ہوسکتا ہے، اس سے ہٹ کر گاڑی کی تیکنیکی خصوصیات، قیمت اور قابل اعتبار ہونے پر توجہ مرکوز کریں۔

گاڑی کا معائنہ نہ کرنا

جب کسی گاڑی کا انتخاب کریں تو سیلزمین کے الفاظ پر بھروسا نہ کریں۔ یقیناً وہ پروفیشنل ہوتے ہیں مگر انہیں اپنی گاڑی فروخت کرکے کمیشن کمانے میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ اسی لیے جتنی معلومات ہوسکے اکھٹی کریں، کسی ماہر سے مشورہ لیں اور موقع ملے تو اپنی منتخب گاڑی کی ٹیسٹ ڈرائیو کریں۔ ہر چیز کا معائنہ کرنے سے آپ کو درست فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

قیمت کم کرانے کی کوشش نہ کرنا

مختلف ڈیلرز سے رابطہ کریں اور انہیں بتائیں کہ آپ کو اب تک کسی گاڑی پر کیا آفر دی جاچکی ہے، ڈیلرز کے درمیان مسابقت اکثر بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس طریقہ کار سے گاڑی کی قیمت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

جلد بازی سے کام نہ لیں

کسی گاڑی کو خریدنے میں جلدبازی سے کام نہ لیں، ہوسکتا ہے کہ آپ کو جلد بازی میں کیے گئے فیصلے پر بعد میں پچھتانا پڑے۔ معلومات اکھٹا کرنے، ماہرین سے مشاورت اور دیگر پہلوﺅں کے لیے مناسب وقت لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں