ناقص اور مضر صحت پلاسٹک بوتل تیار کرنے والوں کے خلاف صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن , پلاسٹک کرش سے تیار کردہ بوتل پر ”یہ کھانے کی اشیاء میں استعمال کے لیے نہیں ”لکھنا لازم ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی

لاہور : ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ہدایت پرناقص اور مضر صحت پلاسٹک بوتل تیار کرنے والوں کے خلاف صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن کیا گیا۔آپریشنز اور ویجیلینس ونگ کی ٹیموں نے مشترکہ کارروائیوں کے دوران نان فوڈگریڈ پلاسٹک بوتلوں کی تیاری، جعلی لیبلنگ اورریکارڈ کی عدم دستیابی پر 4 فیکٹریاں سیل جبکہ 10 فیکٹریوں کی پروڈکشن اصلاح تک بند کر دی۔تفصیلات کے مطابق موسم گرما سے قبل پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ناقص اور مضر صحت پلاسٹک بوتل تیار کرنے والوں کے خلاف صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے نان فوڈگریڈ پلاسٹک بوتلوں کی تیاری، جعلی لیبلنگ اورریکارڈ کی عدم دستیابی پر 4 فیکٹریاں سر بمہر کر دیں۔لاہور میں کارروائیوں کے دوران ایک، شیخوپورہ میں2 اور فیصل آباد میں ایک فیکٹری کو سیل کیا گیا۔ویجیلینس اور آپریشنز ٹیموں نے اقبال بوٹلز، علی دین پلاسٹک، میزان پلاسٹک اور جٹ بوٹلز نامی فیکٹریزکے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے17ہزار خالی بوتلیں، بھاری مقدار میں خام مال اور مشینری ضبط کرلی۔اسی طرح ناقابل سراغ پلاسٹک دانہ کی موجودگی پر 10 فیکٹریوں کی پروڈکشن اصلاح تک بند کر دی گئی ہے۔ صوبہ بھر میں چیکنگ کے دوران 5 فیکٹریوں کے انتظامات تسلی بخش پائے گئے جبکہ 3 کو تفصیلی اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ صرف فوڈ گریڈ پلاسٹک دانے سے بنی بوتل ہی کھانے پینے کی اشیاء کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔پلاسٹک کرش سے تیار کردہ بوتل پر ”یہ کھانے کی اشیاء میں استعمال کے لیے نہیں ”لکھنا لازم ہے۔وارننگ لیبل والی بوتلیں کھانے پینے کے علاوہ باقی اشیاء کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔کیپٹن (ر) محمد عثمان نے واضح کیا کہ پلاسٹک کرش سے نان فوڈ گریڈ بوتلیں اور خام مال (پری فام) بنانے والوں کے لیے ریکارڈ رکھنا لازم ہے۔ناقص بوتلوں میں اشیائے خورونوش کی ترسیل متعدد موذی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں