نظریہ اضافیت پر ویڈیو بنانے والی طالبہ کیلئے ڈھائی کروڑ روپے کا انعام

ڈیان اینڈیلس نے نظریہ اضافیت کو سمجھانے کے لیے ایک دلچسپ ویڈیو بنائی ہے جسے ڈھائی کروڑ روپے کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔

منیلا (نیٹ نیوز ) فلپائن میں کالج کی ایک طالبہ نے آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کو بہت آسان انداز میں بیان کرنے والی ایک ویڈیو بنائی ہے جسے ڈھائی لاکھ ڈالر (پاکستانی ڈھائی کروڑ روپے) سے زیادہ رقم کا انعام دیا گیا ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن نے 1905 اور بعد ازاں 1915 میں اپنا مشہور نظریہ اضافیت دو مختلف تحقیقی مقالوں میں پیش کیا تھا۔ ’’2017ء بریک تھرو جونیئر کالج چیلنج‘‘ کے تحت ایسی ویڈیوز بنانے کا مقابلہ ہوا تھا جن کا دورانیہ 3 منٹ سے کم ہو اور جن کے ذریعے سائنس اور ریاضی کے پیچیدہ تصورات کو اچھی طرح سمجھایا گیا ہو۔ اس مقابلے میں ڈیان اینڈیلس نے’نظریہ اضافیت اور فریم آف ریفرنس کے مساوی ہونے‘ پر سادہ انداز میں ایک دلچسپ ویڈیو بنائی۔ شروع میں ویڈیو میں ایک نمبر 9 دکھایا جاتا ہے جسے دو مختلف ناظر دو مختلف جگہوں سے دیکھ کر مختلف قرار دیتے ہیں یعنی ایک 6 کہتا ہے اور دوسرا ناظر اسے 9 کا ہندسہ قرار دیتا ہے یعنی صرف سرگھمانے سے ہندسہ بدل جاتا ہے۔ ویڈیو کے درمیان ڈیان آکر کہتی ہیں کہ جو جگہ یا ریفرنس آپ استعمال کریں گے اسی لحاظ سے حقیقت بھی بدل جاتی ہے۔

طبیعیات میں اسے فریم آف ریفرنس کہا جاتا ہے۔ ایک دوسرے تجربے میں ڈیان کی تین دوستوں نے ایک سفر کرتی کار کے ہارن کی آواز کو مختلف مقامات (پوزیشن) سے نوٹ کیا یعنی ایک دوست کار کے آگے کھڑی ہوئی، دوسری کار کے پیچھے تھی اور ایک دوست نے کار کے اندر بیٹھ کر ہارن کی آواز ریکارڈ کی۔ جگہ تبدیل ہونے کی وجہ سے ہر ریفرنس فریم پر ایک ہی ہارن کی مختلف آواز موصول ہوئی کہیں آواز کی پچ بہت بلند دیکھی گئی یا پھر آواز پھیلی ہوئی تھی یعنی اس کی پچ کم تھی۔ ڈیان کے مطابق یہی ٹیسٹ سمتی رفتار یعنی ولاسٹی اور وقت کےلیے بھی کیا جاسکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر یوسین بولٹ روشنی کی ولاسٹی کے 98 فیصد رفتار سے دوڑتا ہے تو بولٹ کے 10 سیکنڈ، باہر موجود جج کی گھڑی میں 40 سیکنڈ کے برابر ہوں گے۔ اس ویڈیو کو اب تک لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں اور اس کی سادگی کی تعریف کررہے ہیں جس سے نظریہ اضافیت کا ایک پیچیدہ تصور سمجھایا گیا ہے۔ آپ ڈیان کی اس انوکھی ویڈیو کو یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں