نفاق، باطن میں سرائیت کرنے والا خفیہ مرض

ام عدنان قمر۔ الخبر
سورۃ الحج (آیت38) میں ارشادِ الٰہی ہے:،
{ اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا،اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ}۔
سن رکھو! یقینا سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ ہٹا دیتا ہے، کوئی خیانت کرنے والا نا شکرا اللہ کو ہر گز پسند نہیں۔
امانت میں خیانت کر نے کو نبی اکرمﷺ نے نفاق کی علامت قرار دیاہے۔نفاق ایسی خطرناک باطنی بیماری ہے کہ آدمی اس میں مبتلا رہتے ہو ئے بھی احساس نہیں کر پاتا اور عام طور پر لوگ اس سے ناواقف ہوتے ہیں۔ بسا اوقات آدمی اس کا شکار ہو کر بجائے مفسد کے اپنے آپ کو مصلح سمجھنے لگتا ہے۔نفاق کی دو قسمیں ہیں: نفاقِ اکبر اور نفاقِ اصغر۔ نفاقِ اکبر انسان کو ہمیشہ کے لیے جہنم کے انتہائی گہرے حصہ میں پہنچا دیتا ہے۔ نفاق اصغر کا حامل شخص مسلمانوں کے سامنے کسی دنیاوی لالچ یا دباؤ کی وجہ سے ظاہری طور پر اللہ، اس کے رسولﷺ، فرشتوں، کتابوں اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہے لیکن اندرونی طور پر اس سے عاری ہو تا ہے، یعنی دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت چھپائے رکھتا ہے، یہ نفاق اسلام کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ اور بد ترین کفر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں منافقین کا پردہ فاش کیا اور ان کی قلعی کھول دی ہے اور اپنے بندوں پر ان کی حقیقت واضح فرما دی ہے تاکہ وہ ایسی اور ایسی صفات سے محتاط رہیں۔
سورہ البقرہ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی3 قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ مومنین کے سلسلے میں 4 آیتیں نازل فرمائیں اور کفار و مشرکین کے متعلق دو آیتیں جبکہ منافقین کے سلسلے میں پوری 13 آیتیں نازل فرمائیں کیونکہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ لوگ عام طور پر ان کی وجہ سے شرمیں مبتلا ہوتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کو انہی سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور وہ ان کے لیے غیر معمولی خطرناک ثابت ہوتے ہیںکیو نکہ یہ لوگ اسلام کے وفادار اور اس کی نصرت و دعوت کے علمبردار تصور کیے جاتے ہیںحالا نکہ درحقیقت یہ ان کے شدید ترین دشمن ہیں اور ان کے خلاف مکر و فریب اور سازشوں میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اور اپنی چھپی ہوئی عداوت و بغض کو نت نئے طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔ عام آدمی تصور کر بیٹھتا ہے کہ وہ نشرِ علم اور اصلاحِ معاشرہ میں مصروف ہیں حالانکہ وہ جہل وفساد پھیلانے میں سرگرم ہوتے ہیں۔
انھوں نے انہی سازشوں سے اسلام کے کتنے ہی مراکز تبا ہ و برباد کر دیے ہیں اور کتنے ہی قلعوں کی در و دیوار کو اکھاڑ پھینکا ہے۔ اسلامی نشانات کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے اور کتنے اسلامی اصولوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے ان کو ختم کرنے کی کو ششیں کی ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ اسلام اور مسلمان ان کی سازشوں اور فتنوں کا شکار رہے اور برابر ان کی طرف سے مختلف قسم کے حملے ہوتے رہے جبکہ اپنی خام خیالی میں یہ حضرات سمجھتے ہیں کہ وہ اصلاح اور عملِ خیر کر رہے ہیں۔
سورۃ البقرہ (آیت12) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
جان لو! بلاشبہ وہی فساد کر نے والے ہیں، لیکن وہ شعور نہیں ر کھتے۔ یعنی جس کو یہ اصلاح سمجھتے ہیں ، یہ تو عین فساد ہے لیکن جہالت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہی نہیں کہ یہ فساد ہے۔
سورۃ الصف (آیت8) میں فرمانِ الٰہی ہے:
اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانا چا ہتے ہیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
انھوں نے وحی الٰہی کو چھوڑ نے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس سے ہدایت یاب نہ ہونے پر باہمی طور پر متفق اور متحدہو گئے ہیں۔ سورۃ المومنون (آیت53) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا، ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے، اسی میں وہ مگن ہے۔
سورۃ الفرقان (آیت30) میں فرمایا ہے:
میری قوم اس قرآن کو چھوڑ بیٹھی۔
انھوں نے قرآن کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے (نشانۂ تضحیک بنالیا ہے) ان کے دلوں سے ایمانی علامتیں مٹ چکی ہیں، جنھیں وہ اب جانتے ہی نہیں اور ان میں اسلامی جڑیں کمزور ہو چکی ہیں، جنھیں وہ دوبارہ تعمیر نہیں کر سکتے۔ ان حضرات نے اہلِ ایمان کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے لیکن دل و دماغ میں گمر اہی، کج روی اور مکر و فریب بھرا ہوا ہے۔سورۃ البقرہ (آیت8) میں ارشادِ الٰہی ہے:
اور بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور وہ ہرگز مومن نہیں۔
کیونکہ یہ ان کا محض زبانی دعویٰ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا اصل سرمایہ دھوکا دہی اور مکر و فریب ہے، ان کی جمع پونجی دروغ گوئی اور خیانت ہے۔ وہ باطل طریقے سے کھانے پینے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں اور دونوں فریقوں (مومنین و کافرین) کو خوش رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، اس طرح وہ دونوں کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں لیکن ان کی حقیقت کو سورۃ البقرہ (آیت9) میں اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے:
وہ اللہ کو اور ان لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں جو ایمان لائے مگر وہ اپنے آپ کے سواکسی کو دھوکا نہیں دیتے اور وہ شعور نہیں رکھتے۔
اللہ تعالیٰ نے اسی سورت (آیت10) میں ان کے دلوں کا حال بیان فرما دیا ہے:
ان کا دل (پہلے ہی سے) بیمار تھا، اللہ تعالیٰ نے انھیں اور زیادہ بیمار کر دیا اور جھوٹ بولنے کی سزا میں انھیں دکھ کی مار پڑے گی۔
ان منافقین کے شکوک و شبہات کے پنجے جس شخص کی بھی ایمانی چادر میں پیوست ہوئے، اسے تار تار کر دیا اور ان کے فتنے کی چنگاریاں جس قلب و جگر تک پہنچیں، اسے جلا کر خاکستر کر دیا۔ جس کسی کے کانوں میں ان کے شکوک وشبہات والی باتیں پڑیں، ان کے دل سے ایمان و یقین اٹھ گیا، حاصل یہ کہ ان کے شر و فساد لا متناہی ہیں، جن سے عام طور پر لوگ ناواقف ہیں کیو نکہ ہر منافق کے دو چہرے ہوتے ہیں اور لوگوں سے ان کا معاملہ دورخی والا ہوتا ہے۔ ایک وہ چہرہ جس سے مسلمانوں سے معاملہ کرتا ہے اور دوسرا وہ رخ جس سے اپنی کافر برادری سے ربط و ضبط رکھتا ہے، اسی طرح اس کی دو زبانیں ہوتی ہیں، ایک وہ جس سے چرب زبانی کرکے مسلمان کو دھوکے میں رکھتا ہے، دوسری وہ جس سے اپنی خاص محفلوں میں اپنے اصل خیا لات کا اظہار کرتا ہے۔
سورۃ البقرہ (آیت14) میں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اس طرح فرمایا ہے:
اور جب ملاقات کرتے ہیں مسلمانوں سے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں کہ بے شک ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو (مسلمانوں سے) ہنسی مذاق کرتے ہیں۔
ان منافقوں نے قرآن و سنت سے اعراض کیا، اس کے حا ملین کا مذاق اڑایا، ان کو حقیر جانا اور اپنے نام نہاد علم پر گھمنڈ کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے الہامی احکام کو ما ننے سے انکار کیا۔ ان کے ظاہری علم کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں اضافے سے سوائے تکبر میں اضافے کے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہنسی مذاق کرتا ہے ان کو ڈھیل دیتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) ان کی حالت یہ ہے کہ وہ عقل کے ا ندھے ہیں۔
سورۃ البقرہ (آیت16) میں ان منافقین کا حال اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
یہ و ہ لوگ ہیں جنھوں نے گمرا ہی کو ہدایت کے بد لے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت نے ان کو فائدہ پہنچا یا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے۔
ایمان کی روشنی تھوڑی دیر کے لیے ان کے سامنے چمکتی ہے جس کی روشنی میں ہدایت و ضلالت کی جگہیں نمودار ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ روشنی بجھ جاتی ہے اور ایک آگ باقی رہ جاتی ہے جو لپٹ اور اشتعال سے بھر پورہوتی ہے، وہ اس آگ سے دوچار رہتے ہیں اور ان تاریکیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔
سورۃ البقرہ (آیت17) میں اللہ تعالیٰ نے ان کی مثال اس طرح دی ہے:
ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی، پھر جب روشن کر دیا آگ نے اس کے آس پاس کو تو زائل کر دی اللہ نے ان کی روشنی اور چھوڑ دیا ان کو اندھیروں میں کچھ نہیں دیکھتے۔
ان منافقوں کے قلوب مردہ ہو چکے ہیں، ان کی آنکھوں پرپر دہ پڑچکا ہے، ان کی زبانیں گنگ ہو چکی ہیں، نہ تو یہ ایمانی ندا و پکار کو سنتے ہیں، نہ قرآنی حقائق کو دیکھتے ہیں اور نہ حق بات کہتے ہیں، جیسا کہ سورۃ البقرہ (آیت18) میں ان کے متعلق ارشادِ الٰہی ہے:
بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو وہ نہیں لو ٹیں گے۔
منافقوں کی علامات:
قرآن و سنت میں غور و فکر کرنے سے منافقوں کی کچھ علامتوں اور اوصاف کا علم ہوتا ہے اور ایمانی بصیرت رکھنے والے لوگ ان کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں۔ چنانچہ وہ صفات مندرجہ ذیل ہیں:
ریا کاری:
یہ انسان کی بد ترین عادت ہے۔ منافقین سستی اور کاہلی میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری سے جی چراتے ہیں۔ اخلاصِ عمل ان حضرات کے یہاں بار گراں ہوتا ہے۔سورۃ النساء (آیت142) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔
موقع پرستی:
منافقین کی مثال اس بکری جیسی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان بے چین رہتی ہے، کبھی اِدھر کبھی اُدھر بھا گتی ہے اور کسی ایک گروہ کے ساتھ مستقل مزاجی سے نہیں ٹھہرتی۔ اسی طرح منافق دو گروہوں کے درمیان حیران و پریشان رہتا ہے، نہ تو اُدھر ہوتا ہے اور نہ اِدھر ہی کا رہتا ہے۔ وہ موازنہ کرتا رہتا ہے کہ کون زیادہ طاقتور ہے، جس سے اپنا رشتہ ناتا زیادہ استوار کرے۔ ان کی کیفیت یوں ہے:
کفر و ایمان کے درمیان ڈانواں ڈول ہیں، نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اُس طرف، جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو، اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔
گھات میں رہنا:
منافقین ہمیشہ مومنین کے نقصان کے درپے ہوتے ہیں اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ ان پر کوئی مصیبت آجائے۔ اگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشادگی حاصل ہو تو کہتے ہیں: کیا ہم تم لوگوں کے ساتھ نہیں ہیں؟ پھر اس پر یقین دلانے کے لیے طرح طرح کی قسمیں کھاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ مسلمانوں کے دشمنوں کو فتح نصیب ہوتی ہے تو کافروں سے کہتے ہیں کہ ہمارے تمہارے تعلقات تو بہت مستحکم ہیں اور ہم ایک دوسرے کے قریبی رشتے دار بھی ہیں۔
چرب زبانی:
منافقوں کی شیریں کلامی اور نرم مزاجی کی وجہ سے سننے والامتا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، منافق اپنی دروغ گوئی اور افترا پردازی کو چھپا نے کے لیے بات بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ حق گوئی کے وقت آپ انھیں خاموش دیکھیں گے اور دروغ گوئی کے وقت سر گرم۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس صفت کو سورۃ البقرۃ (آیت204) میں یوں بیان فرمایا ہے:
انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمھیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتا ہے مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمنِ حق ہوتا ہے۔
فساد کرنا:
منافقین اپنے متبوعین کوہر ایسے کام کاحکم دیتے ہیں جس سے لوگوں اور ملکوں میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو اورہر اس چیز سے روکتے ہیں جس میں لوگوں کی دینی یا دنیوی بھلائی ہو۔ چنانچہ آپ دیکھیںگے کہ ان میں کوئی شخص اہلِ ایمان کے بشانہ بہ شانہ نماز و ذکر اور زہد و جہاد میں نظر نہیں آئے گا۔
باہم مشابہ ہونا:
منافقین عادات و اوصاف میں باہمی طور پر ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے ہیں۔ سبھی بری باتوں کا دوسروں کو حکم دیتے ہیں اور اس کو خود کرتے ہیں اور اچھی چیزوں سے روکتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں اور غیرمعمولی بخل سے کام لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بارہا انھیں اپنے احسانا ت و نعمتوں سے نوازا، لیکن یہ لوگ نعمتوں کے حصول کے بعد اس کے ذکر وشکر سے اعراض کرتے ہیں اور متعدد جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں پر ان کے حالات کو کھول کر بیان فرمایا ہے، تاکہ وہ ان کے مکر وفریب سے محفوظ ہو سکیں۔ چنانچہ سورۃ التوبہ (آیت67) میں ارشادِ الٰہی ہے:
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں، برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ کو خرچ سے روکے رکھتے ہیں، یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انھیں بھلا دیا، یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں