نقیب اللہ قتل کو ہائی پروفائل مقدمےکا درجہ دے دیا گیا

نقیب اللہ محسود قتل کو ہائی پروفائل مقدمےکا درجہ دے دیا گیا ہے،وٹنس پروٹیکشن ایکٹ کےتحت دونوںگواہوں کی سیکورٹی کے لئے 5پولیس اہلکار تو تعینات کردئیے گئے لیکن اعلیٰ عدلیہ کےاحکامات کےباوجود باقی پروٹوکول کیلئےفنڈزنہیں ۔

دوسری جانب اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر نقیب اللہ محسود کے قتل کےخلاف قبائلیوں کا دھرنا نویں روز بھی جاری ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقدمہ کے2 گواہوں کووٹنس پروٹیکشن ایکٹ کےتحت سیکورٹی فراہم کی،دونوں عینی شاہدین کی حفاظت کے لئے 5پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

ذرائع کےمطابق وٹنس پروٹیکشن ایکٹ کےتحت گواہوں کےلیےدیگرسیکورٹی اقدامات نہیں کیے۔گواہوں کی محفوظ وخفیہ رہائش کاانتظام اور شناخت کی تبدیلی کےمراحل باقی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکٹ کے تحت عینی شاہدین کوعدالت تک فول پروف سیکورٹی میں لانا ہوتا ہے، اعلیٰ عدلیہ کےاحکامات کےباوجود وٹنس پروٹیکشن ایکٹ کےنفاذ کے لیےفنڈزنہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں