نقیب اللہ کو ‘مقابلے’ میں مارنے والی پوری پولیس پارٹی معطل

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مشکوک مقابلہ کرکے نوجوان نقیب اللہ محسود کو ہلاک کرنے والی پوری پولیس پارٹی کو معطل کردیا گیا۔ترجمان کراچی پولیس کے مطابق قائم مقام کراچی پولیس چیف آفتاب پٹھان نے شاہ لطیف ٹاؤن میں مشکوک مقابلہ کرنے والی پوری پولیس پارٹی کو معطل کردیا۔

معطل ہونے والوں میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت بھی شامل ہیں جنھیں جمعے کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا، دیگر اہلکاروں میں اے ایس آئی فدا حسین، ہیڈ کانسٹیبل سید صداقت شاہ، ہیڈ کانسٹیبل محسن عباس، کانسٹیبل راجہ شمیم مختار اور کانسٹیبل رانا ریاض احمد شامل ہیں۔

واضح رہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی ہدایات پر نقیب قتل کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی انکوائری کمیٹی نے مقتول کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں مذکورہ اہلکاروں کی معطلی کی سفارش کی تھی۔

اس سے قبل پولیس پارٹی کی سربراہی کرنے والے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار کو پہلے ہی عہدے سے ہٹایا جاچکا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق ان کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا ہے۔
نقیب اللہ کی ہلاکت
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار نے 13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جن میں مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والا نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

راؤ انوار کا دعویٰ تھا کہ نقیب اللہ جیل توڑنے، صوبیدار کے قتل اور ایئرپورٹ حملے میں ملوث مولوی اسحاق کا قریبی ساتھی تھا۔

تاہم 27 سالہ نقیب اللہ کے رشتے داروں اور دوستوں نے راؤ انوار کے پولیس مقابلے کو ‘جعلی’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول کاروبار کے سلسلے میں کراچی آیا تھا۔

نقیب اللہ کے ایک رشتے دار نے بتایا کہ ‘مقتول ایک سال قبل جنوبی وزیرستان سے کراچی آیا تھا، اس کی الآصف اسکوائر پر کپڑے کی دکان تھی اور وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھا’۔

واضح رہے کہ راؤ انوار کو ‘انکاؤنٹر اسپیشلسٹ’ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو اس سے قبل بھی متعدد مبینہ پولیس مقابلوں میں کئی افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کرچکے ہیں۔نقیب اللہ کے قتل کے واقعے پر چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار بھی ازخود نوٹس لے چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں