نوازشریف پارٹی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی صدارت کے لئے بھی نااہل قرار دیدیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء سے متعلق 13 آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔

الیکشن ایکٹ 203 پارٹی سربراہ سے متعلق ہے، جسے پیپلز پارٹی،تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ سے بطور وزیراعظم اور رکن پارلیمنٹ نااہلی کے بعد انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء میں ترمیم کے بعد مسلم لیگ ن نے نوازشریف کے پارٹی صدر بننے کا راستہ ہموار کی تھی۔

انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء سے متعلق کیس پر 5 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پڑھ کر سنایا ۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ طاقت کاسرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے، آئین کا آرٹیکل 17ساسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے، آرٹیکل میں قانونی شرائط درج ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پارلیمنٹ کی نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعت کے سربراہ کا پارلیمنٹ میں موجود ارکان کے امور کار میں مرکزی کردار ہوتا ہے، اس لئے پارٹی سربراہ کا دفعہ 62،63 پر پورا اترنا ضروری ہے۔

فیصلے میں نوازشریف کے بطور پارٹی صدر کئے گئے تمام فیصلوں کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا جس میں سینیٹ کے امیدواروں کی نامزدگی کے لئے دیے گئے ٹکٹس بھی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ن لیگ کے پارٹی صدر کے طور پر میاں نوازشریف کا نام ہٹانے کا حکم بھی دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں