نوازشریف کے لہجے میں بڑھتی تلخی کیوں؟

لاہور: (تجزیہ: ڈاکٹرحسن عسکری ) نواز شریف کے لہجے میں موجودہ تلخی کے بڑھنے کی تین بڑی وجوہات نظرآتی ہیں، ایک تو انہیں خطرہ ہے کہ جو احتساب عدالت میں کیس اس وقت چل رہا ہے کہیں اس کا فیصلہ ان کے خلاف نہ آجائے اس کی وجہ سے نہ صرف ان کا کیریئر مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے بلکہ اس کا منفی اثر ان کی بیٹی کے کیریئر پر بھی پڑے گا۔ دوسرا نواز شریف کی یہ خواہش ہے کہ سینیٹ کا الیکشن بر وقت ہو جائے اور اس میں مسلم لیگ ن اکثریت حاصل کر لے جبکہ قومی اسمبلی میں ان کے پاس پہلے سے اکثریت موجود ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اپنی مرضی کی آئینی ترامیم کر کے اپنے آپ کو وزیراعظم بننے کیلئے بھی کوالیفائی کرواسکتے ہیں۔

عدلیہ کے اختیارات کو بھی کم کر سکتے ہیں، فوج کی حیثیت کو بھی کم کر سکتے ہیں، اس قسم کی خواہشات کی عکاسی ہمیں 1997 اور 1999 کے ادوار میں 15 ویں ترمیم میں نظرآئی تھی، 15ویں آئینی ترمیم نواز شریف نے اپنے آپ کو امیرالمومنین بنانے کیلئے پیش کی تھی لیکن وہ سینیٹ میں منظور نہیں ہوسکی اور اس کے بعد معاملہ رک گیا تھا۔ اب بلوچستان کے اندر جو صورتحال بگڑی ہے اس میں انہیں خطرہ یہ ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومت وہاں نہیں رہتی یا مسلم لیگ ن میں بغاوت جو نظر بھی آرہی ہے وہ حقیقت بن جاتی ہے تو پھر وہاں سینیٹ کا جب بھی الیکشن ہوگا تو یہ ضروری نہیں کہ جو لوگ منتخب ہونگے وہ نوازشریف کی مرضی سے اپنے ووٹ ڈال دیں گے۔

تیسری وجہ یہ نظرآتی ہے کہ نوازشریف کی خواہش ہے کہ وزارت عظمی کا تاج ان کی بیٹی کے سر سج جائے لیکن ایک جانب شہباز شریف بھی ایک متحرک امیدوار کے طور پر نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے قریبی ساتھی یہ بات کرتے ہیں کہ آئندہ کے وزیراعظم وہی ہونگے اگرچہ مسلم لیگ ن نے ابھی مکمل طور پر اس کی توثیق نہیں کی۔ ان تین بنیادی وجوہات کی بنا پر نواز شریف کے رویے میں زیادہ تلخی نظر آتی ہے۔ وہ عدلیہ کے خلاف، فوج کے خلاف اور سازش کی بات کرتے ہیں۔ اس خیال سے بھی کہ اگران کے بیانات پر اعلیٰ عدلیہ ردعمل دیتی ہے، فرض کریں وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، یا فوج کسی وجہ سے ناراض ہو کر ان کے خلاف ایکشن کرتی ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ایک سیاسی شہادت مل جائے گی اور اس سیاسی شہادت سے ان کاسیاسی کیریئر بن جائیگا، لگتا ہے نواز شریف یہ چاہتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ میرا سیاسی مستقبل ختم ہوتا ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ اگر میرا سیاسی مستقبل بچتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں اپنی حیثیت کو مضبوط کرنے یا دوسروں کے کھیل کو خراب کرنے کا ہر ممکن طریقہ اختیار کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں