نواز شریف کی نااہلی کے بعد حکومت اور مسلح افواج کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی ہے، شاہد خاقان عباسی

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد حکومت اور مسلح افواج کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی۔

بلومبرگ نیوز ایجنسی کے صحافیوں کے ایک پینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں اور جب تک تمام قوتیں امن مذاکرات میں شامل نہیں ہوتی اس وقت تک پیش رفت ممکن نہیں۔

بلومبرگ کی جانب سے انٹرویو کی بنیاد پر ایک رپورٹ تیار کی گئی، جس میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ آئندہ انتخابات میں 6 ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے اور حکومت اس دوران فوج سے کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتی۔اس رپورٹ کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے اعتراف کیا کہ گزشہ برس کے دوران اداروں کے درمیان مزاحمت میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے انٹرویو میں کہا کہ ہماری ان سے کھل کر بات چیت ہوئی اور اس وقت بہتر مفاہمت ہے جبکہ یہ تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور ہمارے درمیان کئی معاملات پر اتفاق رائے موجود ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان اسٹریٹجی کے بارے میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد کرنے کو تیار تھا کیونکہ بالاخر ایک دن افغانستان کو بیٹھ کر مذاکرات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان لوگوں کو افغانستان کے حوالے کیا جو افغان شہری یہاں گرفتار ہوئے تھے، یہ لوگ ہمارے یہاں دہشت گرد حملوں میں ملوث نہیں تھے کیونکہ اگر یہ ملوث ہوتے تو ان پر مقدمہ چلایا جاتا، لہٰذا ہم نے انہیں افغان حکام کے حوالے کیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 27 افراد کی واپسی قیدیوں کی منتقلی کا معمول کا عمل تھا۔

امریکا کی جانب سے پاکستان کی سیکیورٹی امداد معطل کرنے کے فیصلے پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی امداد پہلے ہی بہت کم تھی جبکہ پاکستان کوالیشن سپورٹ فنڈ کے تحت دیے گئے اربوں ڈالر کا معاوضہ ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امداد کی معطلی کے باوجود پاکستان نے افغانستان کے راستے امریکی سپلائی روٹس بند نہیں کیے جبکہ امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ بڑھتے تعلقات کے باوجود پاکستان کا امریکا کے ساتھ تعاون نہیں رکا کیونکہ ہم یہ مانتے ہیں کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات گہرے اور دیر پا ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ یہ زیادہ مشروط ہیں۔

انٹرویو کے دوران شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید سے تعلق رکھنے والی فلاحی تنظیم کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 سے 3 ماہ میں پاکستان کی جانب سے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ کے خلاف زیادہ پابندیاں لگائی گئی لیکن حافظ سعید کے خلاف مزید کارروائی مکن نہیں تھی کیونکہ ہمارے پاس ان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں