نواز وزارت اعظمیٰ کے بعد پارٹی صدارت سے بھی فارغ

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنا دیا ہے جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف پارٹی صدارت سے بھی نااہل قرار دیدیا گیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ کسی پارلیمینٹرین کو چور اچکا نہیں کہا ، الحمد اللہ ہمارے لیڈر اچھے ہیں۔ طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، عوام اپنی طاقت کا استعمال عوامی نمائندوں کے ذریعے کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیا محدود اختیارات والے عہدے پر بے ایمان شخص کو لگایا جا سکتا ہے؟، نا اہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے سے پارلیمانی نظام تباہ ہوجائے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا پارٹی سربراہ کا عہدہ انتہائی اہم ہوتا ہے ، لوگ اپنے لیڈر کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں ، ہمارے کلچر میں سیاسی جماعت کے سربراہ کی بڑی اہمیت ہے۔اس موقع پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ سینیٹ ٹکٹ اس شخص نے جاری کیے جو نااہل ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ دوسرے ملکوں میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں مختلف صورتحال ہے، پارٹی سربراہ کے گرد ساری چیزیں گھوم رہی ہوتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں ہماری جان بھی اپنے لیڈر کے لئے حاضر ہے، یہ ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور پارٹی سربراہ اہم ہوتا ہے اور اسی کے گرد ساری چیزیں گھومتی ہیں۔

اس موقع پر وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت کے سربراہ کے خلاف عدالت کا فیصلہ موجود ہے، کیا میں غلط کام کرنے کے لئے اپنا بنیادی حق استعمال کرسکتا ہوں اور مفروضے پر پوچھ رہا ہوں کیا ڈرگ ڈیلر یا چور پارٹی لیڈر بن سکتا ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ قانون میں اخلاقی اقدار بنیادی نکتہ ہے، سیاسی جماعت ڈی ریگولیٹ نہیں رہ سکتی اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں تو سوال بھی نہیں پوچھ سکتا، ذہن میں اہم سوال آرہا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کسی پارلیمینٹیرین کو چور اچکا نہیں کہا، مفروضے پرمبنی سوالات کررہے تھے، الحمداللہ اور ماشاء اللہ کے لفظ اپنی لیڈر شپ کے لیے استعمال کیے، ہم نے کہا تھا ہماری لیڈر شپ اچھی ہے، قانونی سوالات پوچھ رہے تھے تاہم کسی وضاحت کی ضرورت نہیں اور نہ وضاحت دینے کے پابند ہیں، ان سوالات پر جو ردعمل آیا وہ قابل قبول نہیں۔

بابراعوان نے دلائل میں کہا کہ نیلسن منڈیلا کی اہلیہ نے پارٹی اور تحریک چلائی، نیلسن منڈیلا نے بعد میں اہلیہ کو طلاق دے دی لیکن اہلیہ نے نہیں کہا کہ مجھے کیوں نکالا۔ بابر اعوان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ آج شام بتائیں گے کہ مختصر فیصلہ سنانا ہے یا فیصلہ محفوظ کیاہے۔

انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری سے پہلے عدالت سے نااہل قرار دیا گیا شخص کسی سیاسی جماعت میں عہدے کا اہل نہیں ہوسکتا تھا، نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اکتوبر 2017 میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی شق 203 میں ترمیم کی، جس کے بعد نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ (ن) کی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں، اس ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائر کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں