نیوزی لینڈ مسجد حملے میں احمد ایلیڈی کیسے بچے؟

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر ہونے والے حملے میں خوش قسمتی سے بچ جانے والے افراد تاحال شدید صدمے میں ہیں۔ اُن ہی افراد میں سے ایک نے بتایا ہے کہ وہ مسجد حملے میں کس طرح بچے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق مساجد پر ہونے والے حملے میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے30سالہ احمد ایلیڈی نےایک انٹرویو میں بتایا کہ جمعے کی نماز سے قبل ہونے والے خطبے کے دوران انہیں فائرنگ کی آواز سنائی دی،جس کے فوراً بعد چیخ وپکار کی آوازیں بھی آنے لگیں، یہ آوازیں سنتے ہی وہ اور اُن کے ساتھ کچھ لوگ قریب موجود ’ایمرجنسی‘ دروازر کی طرف دوڑے۔ 

احمد ایلیڈی نے بتایا کہ فائرنگ کی آوازیں مزید تیز ہوتی جارہی تھیں انہوں نے دروازہ کھولنے کی بے حد کوشش کی لیکن دروازہ نہیں کھلا اور ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے دروازہ جان کے بند کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ دروازہ کھولنے کی کوشش میں اُن کی نچلی پسلیاں بھی ٹوٹ گئیں لیکن وہ تب بھی نہیں کھلا۔ 

احمد نے بتایا کہ جب وہ ایمرجنسی دروازہ کھولنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو اس کےبعد انہوں نے ایک نوکیلے شیشے کی مددسے دورازے کے نچلے حصے میں سوراخ کرنا شروع کردیا اور تھوڑی سی جگہ سے وہ  رینگتے ہوئے باہر آگئے، اس طرح انہوں نے اپنی جان بچائی۔ وہ اور لوگوں کی بھی جان بچانا چاہتے تھے لیکن اُن کی پسلیاں ٹوٹ جانے کی وجہ سے وہ کسی کی بھی مدد نہیں کرسکے۔ 

انٹر ویو میں احمد نے مزید بتایا کہ وہ جیسے ہی النور مسجد سے اپنی جان بچا کر باہرنکلے انہیں اردن میں موجود اپنی بیوی، 3 سالہ بیٹا اور بیٹی یاد آگئے۔ اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے احمد نے بتایا کہ وہ 9 سال قبل یہاں ( نیوزی لینڈ) شفٹ ہوئے تھے اور یہاں وہ ایک ریسٹورنٹ میں باورچی کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔

دوران انٹرویو احمد نے بتایا کہ اگراُس وقت ایمرجنسی دروازہ کھل جاتا تو اتنے زیادہ لوگوں کی جان نہ جاتی بلکہ لوگوں کے بچ جانے کے امکانات زیادہ تھے۔

خلیج ٹائمز بات کرتے ہوئے ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ ’میں نے اس کمرے کا بغور جائزہ لیا جہاں میں اس وقت کھڑا تھا۔ وہاں کئی سو گولیوں کی خول بکھرے پڑے تھے ایسا لگ رہا تھا وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا۔

واضح رہے کہ کرائسٹ چرچ حملے میں 50مسلمان شہید ہوئے تھے جن میں 9پاکستانی بھی شامل تھے۔ جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا تھا ۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈ آرڈن نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں