نیکیوں کو غارت کرنے والی ، زبان

بہت سے دیندار اور پرہیزگاری میں معروف لوگ بھی کبھی زبان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بننے والی باتیں کہہ دیتے ہیں
 مولانامحمد عابد ندوی۔ جدہ
    بہت سارے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ زبان کو قابو میں نہیں رکھ پاتے جبکہ اعضاء  و جوارح میں  زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو بہت زیادہ روکے رکھنے کا محتاج ہے۔ جس طرح انسان کے اعضاء وجوارح سے سرزد ہونے والے اعمال و افعال قابل مواخذہ ہیں اسی طرح زبان سے نکلنے والے الفاظ  و کلمات اور اقوال بھی قابل مواخذہ ہیں، عنداللہ انکے بارے میں بازپرس ہوگی۔ قرآن و سنت کے بیشمار نصوص اس پر شاہد ہیں کہ انسان اپنی زبان سے جو بات بھی نکالتا ہے اسکا معاملہ بڑا سنگین ہے۔ یہ الفاظ و اقوال خیر و بھلائی پر مشتمل ہوں تو انسان کبھی وہم و گمان سے بھی بڑھ کر اجروثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پالیتا ہے اور اگر یہ باتیں شروفساد کے حوالے سے  گناہ پر مشتمل ہوں تو انسان کبھی تصور سے بڑھ کر عذاب الہٰی کا مستحق بن جاتا ہے اسلئے زبان کو روکے رکھنا، قابو میں رکھنا اورکچھ بولنے سے پہلے اسکے اخروی انجام کے  بارے میں ہزار بار سوچنا ازحد ضروری ہے۔ زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں ہوتی لیکن ہر بات نامۂ اعمال میں محفوظ اور درج ہورہی ہے۔ روز محشر انسان اپنی  باتوں پر جوابدہ ہوگا اور ان پر ثواب  یا عذاب کا مستحق بھی، اللہ تعالیٰ  ارشاد فرماتا ہے:
     ” (انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر یہ کہ اسکے پاس (لکھنے والا) نگہبان تیار ہے۔” (قٓ18 )۔
     اسی طر ح ایک دوسری جگہ انسان کے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھنے والے فرشتوں کا ذکر اس طرح آیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
     ” یقینا تم  پر نگہبان، عزت والے، لکھنے والے مقرر ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں۔” (الانفطار12-10 )۔
     پروردگار کی شان میں بعض یہودیوں کے گستاخانہ جملے پر انہیں تنبیہ کی گئی کہ:
     ” یقینا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ  اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں، انکے اس قول کو ہم لکھ لیں گے اور ان (کے اسلاف) کا انبیاء کو ناحق قتل کرنا بھی، اورہم ان سے کہیں گے کہ جلانے والے عذاب چکھو۔” (آل عمران  181 ) ۔
    اسی طرح ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
    ” ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کیلئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔” (مریم  79 )۔
     ان تمام آیات سے  یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اسی طرح قرآن پاک کی اور بھی آیات  میں یہ مضمون بصراحت آیا ہے کہ ہر انسان کے اعمال اور اقوال سب کچھ نامہ اعمال میں درج ہورہے ہیں ۔ چھوٹی بڑی کوئی بات اور کوئی معمولی سے معمولی کام بھی درج رجسٹر ہونے سے مستثنیٰ نہیں، ارشاد باری ہے:
     ” اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے پس تو دیکھے  گا کہ گنہگار اسکی تحریر سے خوف زدہ ہورہے  ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا بغیر گھیرے کے باقی ہی  نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے  اور تیرا رب کسی  پر ظلم و ستم نہیں کریگا۔” (کہف  49 )۔
    انسان کبھی سوچے سمجھے بغیر کوئی بات اپنی زبان سے نکالتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے  یہاں معمولی نہیں ہوتی،  اللہ تعالیٰ  ارشاد فرماتا ہے:
     ” اور تم اپنے منہ سے وہ بات نکالتے ہو جسکے بارے میں تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور تم اسے ہلکا سمجھتے ہو حالانکہ  یہ اللہ کے نزدیک  بہت بڑی  بات ہے۔” (النور  15 ) ۔
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  اس حدیث پاک کو پڑھئے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ  کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ:
      ” بے شک کبھی آدمی بغیر غور و فکر کئے کوئی بات زبان سے نکالتا ہے جسکے سبب جہنم کی آگ میں اتنی گہرائی میں  جاگرتا ہے جتنا کہ مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ  ہے۔” (متفق علیہ) ۔
    ایک دوسری حدیث کے الفاظ ہیں کہ:
      ” بے شک آدمی کبھی کوئی ایسی بات زبان سے کہہ دیتا ہے جس میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا  جبکہ اس بات کی وجہ سے وہ جہنم کی اتنی گہرائی میں گرا دیا  جا تا ہے جسکا فاصلہ 70سال کی مسافت کے بقدر ہے۔” (ترمذی،ابن ماجہ) ۔
    حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
     ” بے شک کبھی آدمی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا کوئی ایسا کلمہ بولتا ہے کہ اس کو گمان تک نہیں ہوتا کہ وہ کلمہ اسے کہاں تک پہنچا دیگا۔ اللہ تعالیٰ اسکے سبب اس بندہ کے حق میں قیامت تک کیلئے اپنی رضا مندی و خوشنودی لکھ دیتا ہے اور بے شک کبھی آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا کوئی  ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے کہ اس کو گمان تک نہیں ہوتا کہ وہ کلمہ اس کو کہاں تک پہنچا دے گا؟ اللہ تعالیٰ اسکے سبب اس آدمی کے حق میں قیامت تک کیلئے اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔” (ترمذی، ابن ماجہ وصحیح ابن حبان)۔
     یہ حقیقت ہے کہ ظلم ، زنا، چوری وغیرہ بڑے بڑے گناہوں سے بچنا بڑی حد تک آسان ہے لیکن زبان کو قابو میں رکھنا اور اپنے آپ کو زبان کی  برائیوں سے بچانا کچھ آسان نہیں۔ بہت سے دیندار اور پرہیزگاری میں معروف لوگ بھی کبھی زبان سے  اللہ تعالیٰ  کی ناراضی کا سبب بننے والی باتیں کہہ دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ بڑے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں لیکن انکی زبانیں غیبت و بہتان تراشی اور  لوگوں کی عزت و آبرو پامال کرنے میں خوب چلتی ہیں۔ جاننا چاہیئے کہ زبا ن سے ادا کئے جانے والے  جملوں کا معاملہ انجام کے لحاظ سے بڑا سنگین ہے ۔کبھی  ایک جملہ سے زندگی بھر کی عبادت و ریاضت  ضائع ہوجاتی اور ساری نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں۔ صحیح احادیث میں رسول اللہ  ﷺسے بنی اسرائیل کے 2 آدمیوں کا واقعہ منقول ہے جن میں ایک عبادت گزار تھا جبکہ دوسرا گنہگار۔ عبادت گزار شخص، گنہگار کو گناہوں میں دیکھ کر اسے نصیحت کرتا کہ گناہ چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ  کی اطاعت و بندگی اختیار کرو۔ وہ جواب دیتا کہ تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، کیا تم مجھ پر داروغہ بنائے گئے ہو؟ ایک دن اس عابد نے اس سے کہہ دیا کہ  اللہ تمہاری مغفرت نہیں کریگا یا اللہ کی قسم وہ تمہیں جنت میں داخل نہیں کریگا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر اتنا ناراض ہوا  اور اس عابد سے کہا  کہ تم کون ہوتے ہو جو مجھ پر   قسم کھاکر کہتے ہو کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا۔ میں نے اس کو بخش دیا اور تمہارا عمل ضائع کردیا۔ ایک دوسری  روایت میں ہے کہ گنہگار سے فرمایا  تم میری رحمت سے جنت میں چلے جاؤ اور عبادت گزار  کے بارے میں فرشتوں سے کہا کہ اسکو جہنم میں لے جاؤ۔ اس حدیث  کو رسول اللہ  ﷺ سے نقل کرنے والے راویوں میں ایک راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں، وہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں  ” اس ذات کی قسم جسکے قبضے میں میری جان ہے، ایک جملے نے اسکی دنیا و آخرت برباد کردی۔” (ابو داؤد،صحیح مسلم ومسند احمد)  ۔    
    دیکھئے ایک جملے نے اس عبادت گزار شخص کو جس نے نہ جانے زندگی کے کتنے برس عبادت  میں گزارے ، کہاں سے کہاں پہنچا دیا؟ یقینا  یہ بات اپنی زبان سے  نکالتے وقت اسکے وہم و گمان میں بھی نہ  رہا ہوگا کہ اسکا انجام اتنا بھیانک اور دنیا و آخرت کی بربادی کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ اسی طرح بعض اور احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز، روزہ، حج، جہاد جیسی عبادات کی نور انیت اور ا نکاحسن اور قبول بھی زبان کی احتیاط پر موقوف ہے۔ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے جنت میں لے جانے والے اور جہنم سے بچانے والے عمل کے بارے میں دریافت فرمایا تو  رسول اللہ ﷺنے انہیں ایک اللہ کی عبادت کرنے، نماز ،  روزہ ، زکاۃ اور حج   کرنے کی  رہنمائی فرمائی  پھر مزید ابوابِ خیر کاذکر  فرمایا، اس کے بعد فرمایا:
    ” کیا میں تمہیں وہ چیز بھی بتادوں جس پر گویا ان سب کا مدار ہے” (جسکے بغیر یہ سب چیزیں ہیچ اور بے وزن ہیں) ۔‘‘
    حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں  کہ میں نے عرض کیا ضرور وہ چیزیں  بھی بتلا دیجئے جس پر آپ ﷺنے  اپنی زبان پکڑی اور فرمایا:
     ” اس کو روکو۔” (یعنی اپنی زبان قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے باک اور بے احتیاط نہ ہو) ۔
    حضرت معاذ کہتے  ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ( ﷺ) !ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پربھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟ آپ ﷺنے  فرمایا :
     معاذ! تمہارا بھلا ہو! آدمیوں کو دوزخ میں انکے منہ کے بل(یا یہ فرمایا کہ انکی  ناکوں کے بل) انکی زبانوں کی بیباکانہ باتیں ہی تو ڈلوائیں گی” (ترمذی، ابن ماجہ ومسند احمد)۔
    بے قابو زبان  کے اسی انجامِ  بد کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے بے شمار موقعوں پر صحابہ کرام کو نصیحت  طلب کرنے پر زبان کو قابو میں رکھنے اورزیادہ  ترخاموش رہنے ہی کی نصیحت فرمائی، یہ بھی آپ ﷺ  کا ارشاد گرامی ہے کہ :
    ” جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ بھلی بات خیر و بھلائی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔” (متفق علیہ)۔
     بعض احادیث  میں اس شخص کیلئے فوزو فلاح کی خوشخبری دی گئی جو خاموشی کو اختیار کرلے  اسی لئے آدمی کو چاہیئے کہ بولنے سے پہلے خوب سوچے  اور غور و فکر کرے۔ خیرو بھلائی کی بات دنیا و آخرت میں فائدہ پہنچانے والی ہی زبان سے نکالے۔ بری بات اپنی زبان سے نہ نکالے۔ غیر مفید  اور مفید  باتوں سے بھی اپنے آپ کو بچائے اسلئے کہ لایعنی اور بے ضرورت گفتگو جو اگرچہ ابتداء  میں جواز کے دائرہ میں  ہو،مباح ہو  لیکن عادتاً یہ حرام و ناجائز اور مکروہ  باتوں تک بھی آدمی کو پہنچا دیتی ہے۔ایک حدیث مبارکہ  میں تو رسول اللہ ﷺنے ترک لایعنی(فضول اور غیر ضروری باتوں کے ترک کرنے) کو آدمی کے اسلام کا کمال اور حسن قرار دیا(ترمذی و ابن ماجہ) ۔
    ہماری شب و روز کی گفتگو کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہ اکثر حرام و ناجائز نہ بھی ہو تو لایعنی اور غیر ضروری ہی کے قبیل سے ہوتی ہے جبکہ یہ بھی کچھ کم خطرناک نہیں۔ ایک صحابی کا انتقال ہوا تو  ایک نے کہا ” جنت کی خوشخبری ہو”  جس پررسول اللہ ﷺنے فرمایا:
     ” تمہیں کیسے پتہ؟ (کہ اس کیلئے جنت ہے) ،ہوسکتا ہے اس نے کوئی لایعنی بات کہی ہو یا ایسی چیز میں بخل کیا ہو جو اس (کے مال) کو کم نہیں کرتا۔” (ترمذی)۔
     دیکھئے  لایعنی اور فضول بات جنت کے داخلہ میں رکاوٹ بن سکتی  ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، اللہ کی قسم کھاکر کہا کرتے  تھے کہ  روئے زمین پر زبان سے بڑھ کر کوئی چیز طویل قید کی محتاج نہیں ۔ حضرت طاؤس کہتے  تھے:میری زبان  درندہ ہے، اگر میں اسے چھوڑ دوں تو مجھے کھا  جائیگی۔
     بعض ماثور دعاؤں میں زبان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے اور  یقینا زبان کا شر ایسا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جائے۔ اللہ کی مدد و توفیق شامل حال نہ ہو تو زبان کے شرو ر و آفات سے اپنے آپ کو بچانا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ زبان کے شر سے ہم سب کی حفاظت فرمائے، زبان کو قابو میں رکھنے اور خیر و بھلائی کی بات ہی زبان سے نکالنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں