ن لیگ کے ڈاکٹر اسد 298 ووٹ لیکر پنجاب سے سینیٹر منتخب، تحریک انصاف کو 38 ووٹ ملے

لاہور : پنجاب سے نہال ہاشمی کی خالی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار ڈاکٹر اسد اشرف298ووٹ لیکر سینیٹرمنتخب ہوگئے جبکہ تحریک انصاف کی ڈاکٹر زرقا کو 38 ووٹ ملے، مجموعی طور پر 350 ووٹ ڈالے گئے جن میں 2ارکان کے ووٹ منسوخ ، 12 ووٹ مسترد اور 18 اراکین نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیاجبکہ تین ن لیگی ارکان بھی ووٹ ڈالنے نہیں آئے، پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں 3نشستیں خالی ہیں اور 368 اراکین کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے، ان میں 350 اراکین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ، پیپلز پارٹی کے 8اراکین نے بائیکاٹ کے باعث ووٹ نہیں ڈالا جبکہ مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر مونس الہٰی اور خدیجہ فاروقی بھی ووٹ ڈالنے اسمبلی نہ آسکے جبکہ ووٹ نہ ڈالنے والوں میں مسلم لیگ (ق) کے ارشد خان لودھی، عبدالقدیر اعوان اور دیگر 31 اراکین شامل ہیں، پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے کل 310 کے علاوہ، مسلم لیگ ضیاء کے 3، جے یو آئی (ف)، نیشنل مسلم لیگ اور بہاولپور عوامی اتحاد کے 1 رکن کی حمایت حاصل ہے جبکہ اپوزیشن پارلیمانی جماعتوں میں تحریک انصاف کے 30، مسلم لیگ (ق) کے 8، پیپلز پارٹی کے 8، جماعت اسلامی کے ایک رکن کے علاوہ 5آزاد اراکین ہیں اس طرح تحریک انصاف کو 30 کی بجائے 38 اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو 310 ووٹوں کی بجائے 298 ووٹ ملے ہیں۔ن لیگ کے غلام نظام الدین سیالوی اور جماعت اسلامی کے ڈاکٹر وسیم اختر ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔ صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ خان نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے 12ووٹ مسترد ہوئے جبکہ ہمارے 3اراکین ووٹ نہیں ڈال سکے جو 3 مارچ کو ووٹ ڈالنے ضرور آئیں گے۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو اپنی پارٹی کے 100فیصد ووٹ ملے ہیں، تحریک انصاف کو 8اضافی ووٹ ملے ہیں ان میں مسلم لیگ (ق) کے 6 اور 2آزاد اراکین کے ووٹ شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں