وزیرآباد میں بننے والے خنجر اور تلواریں

پاکستان کے شہر وزیرآباد کی بات کی جائے تو وزیرآباد کٹلری کی صنعت کیوجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہاں کے قابل اور ہنرمند ہاتھ ایسے شاہکار تراشتے ہیں کہ دیکھنے والا دھنگ رہ جاتا ہے۔

وزیرآباد
شہر کے اندر داخلی رستے پر بنایا گیا نمونہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وزیرآباد کٹلری کی صنعت کا شہر ہے

وزیرآباد میں کٹلری کی صنعت قیام پاکستان سے قبل موجود تھی۔ اس شہر میں تقریبًا 500 کے قریب چھوٹے اور بڑے کارخانے موجود ہیں۔ جن میں گھریلو برتنوں سمیت تلواریں،خنجر، چھریاں،چاقو اور دیگر سامان تیار کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کا پہلا پریشر کُکر بنانے کا اعزاز بھی وزیرآباد کو حاصل ہے۔
اس وقت ملک کا 96 فیصد کٹلری کا سامان وزیرآباد میں تیار کیا جارہا ہے۔ جس کا ایک کثیر حصہ زیادہ تر یورپ اور امریکہ میں برآمد کیا جاتا ہے اور اس سے پاکستان ہر سال 90 ملین ڈالرز کا زرمبادلہ کما رہا ہے۔

وزیرآباد
چھریوں اور چاقو کے خوبصورت ڈیزائن

کٹلری کے ساتھ ایک قدیم اور دلکش فن جو اس شہر کو سب سے ممتاز کرتا ہے وہ ہے وزیرآباد کے بنائے ہوئے خنجر اور تلواریں۔ جوکہ ہالی وڈ کی فلموں میں بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔

وزیرآباد
تلواروں اور خنجروں کے ڈیزائن

خنجر کے بنیادی طور پر تین حصے ہوتے ہیں جن میں دستی، بلیڈ اور کور شامل ہیں۔ ایک دلفریب خنجر اپنی تکمیل کو پہنچنے کے لیے مختلف مراحل سے گزرتا ہے سب سے پہلے خنجر کا نمونہ کاغذ کے ایک گتے پر بنا کر اسے کاٹ لیا جاتا ہے تاکہ خنجر کی تیاری میں آسانی ہو جائے۔ اس کے بعد سٹیل کی بڑی شیٹ کو کاٹ کر چھوٹا کیا جاتا ہے اور استعمال کیا جانے والا سٹیل اعلیٰ ترین قسم کا ہوتا ہے۔ جسے دمسکس سٹیل کہا جاتا ہے۔

دمسکس سٹیل خنجر فائل فوٹو

ڈمسکس Damscus سٹیل سے بنے خنجر دنیا بھر میں مقبول ہیں کیونکہ اس میں سٹیل کی ہزاروں تہیں ہوتی ہیں اور اس سٹیل کی کٹائی کرنے کے بعد خنجر کی شکل نمایاں ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ہاتھ کی ڈائی یا مشینی ڈائی سے خنجر کا سائزاور اس کا ڈیزائن واضح کیا جاتا ہے۔

اس کی تیاری کے لیے اسے آگ کی بھٹی میں اس وقت تک رکھا جاتا ہے جب تک سٹیل گرم ہو کر سرخ نہ ہوجائے، اس کے بعد خنجر کو تیل میں رکھا جاتا ہے اورمشین سے بلیڈ کی سطح ہموار کی جاتی ہے، بلیڈ خنجر کا ایک انتہائی اہم حصہ ہوتا ہے اور اس بلیڈ کی مشین پر تیاری کی جاتی ہے جس خنجر کی دار نمایاں ہوجاتی ہے۔

وزیرآباد
خنجر تیاری کے دوران

بات کی جائے دستی کی تو یہ خنجر کی نفاست اور خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہے دستی کو لکڑی کے علاوہ ہرن اور بارسینگوں کے سینگ سے بھی تیار کیا جاتا ہے ان کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے مشین میں پالش کیا جاتا ہے۔

وزیرآباد
خنجر کی دستی

خنجر کی چمک اور خوبصورتی کو مزید نکھارنے کے لیے چونے اور مٹی کے تیل کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے وہ مزید دلکش نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔
آخر میں کور اس خنجر کی خوبصورتی اور نفاست میں اور اضافہ کرتا ہے اسے کور کو تیار کرنے میں بھی ہاتھ کی محنت استعمال ہوتی ہے جس میں چمڑے کو کاٹنے کے بعد اس کی سلائی اور بعد میں پالش کیا جاتا ہے۔

وزیرآباد
کور کا ڈیزائن

وزیرآباد 25 سے 30 ہزار لوگوں کا روزگار اس انڈسٹری سے وابستہ ہے اور یہی ہنر مند لوگ اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے شہر اور ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کر رہے ہیں۔

اگر حکومت پاکستان اس شعبے کی طرف مزید توجہ کرے تو یہ ہنر مند لوگ پاکستان کو مزید زرمبادلہ کما کر دے سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں