وزیراعلی سندھ کا کراچی میں جاری ترقیاتی اسکمیوں کا معائنہ، موقع پر ہدایات

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے تیسرے مرحلے میں بالخصوص پسماندہ اور صنعتی علاقے مثلاً لیاری، کورنگی اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں از سر نو تعمیر کے کام شروع کیے جائیں جس کے لیے تقریباً 4 ارب روپے کی ترقیاتی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔

اتوار کو  انھوں نے ان اسکیموں کا جائزہ لینے کے لیے دورہ بھی کیا اور دورہ کے آخری مرحلے میں ککری گراؤنڈ لیاری میں بچوں کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلی۔

  اتوار کی صبح وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب، پروجیکٹ ڈائریکٹر کراچی پیکیج نیاز سومرو اور دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ مختلف مقامات کا دورہ کیا جہاں پر ترقیاتی کام  جاری ہیں۔

سب سے پہلے وہ شہید ملت روڈ پہنچے، جہاں دو انڈرپاس زیر تعمیر ہیں۔ پہلا انڈرپاس حیدر علی چورنگی، شہید ملت روڈ کے ساتھ ہے جوکہ 658.188 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے،  445 میٹر طویل یہ انڈر پاس توقع ہے کہ  آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ دوسرہ انڈرپاس جوکہ شہید ملت روڈ کے ساتھ طاق روڈ پر ہے اسکی تعمیری لاگت 524.258 ملین روپے ہے اور اسکی لمبائی 454 میٹر ہے۔

دونوں انڈرپاس آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہونگے مگر وزیراعلیٰ سندھ نے پروجیکٹ کے ایم ڈی نیاز سومرو کو ہدایت کی کہ انھیں چار ماہ میں مکمل کیا جائے۔ انھوں نے ڈی آئی جی ٹریفک کو ٹریفک کے انتظامات بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی کیوں کہ مذکورہ علاقہ انڈرپاس کی تعمیر کے باعث بند ہوجائے گا۔

بعدازاں وزیراعلیٰ سندھ کورنگی انڈسٹریل ایریا گئے جہاں پر جام صادق برج تا داؤد چورنگی زیرتعمیر سڑک 8 ہزار روڈکی تعمیر جاری  ہے۔ اس 9 کلومیٹر طویل سڑک پر اتوار سے کام شروع ہوا ہے اور اس پر لاگت کا تخمینہ 1.2 بلین روپے ہے۔ ا س اسکیم کے تحت پانی کی فراہمی کی لائین ٹریک پورشن تا سینٹرل میڈین رائیٹ مرتضیٰ چورنگی سے فیوچر چورنگی موڑ منتقل ہوجائیں گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ گندے پانی کے نالے کے متاثرہ حصہ کو تعمیر کرکے اسکی مکمل صفائی کی جائے۔ جبکہ انھوں نے  بی آر ٹی ییلو لائین پراجیکٹ جوکہ ورلڈ بینک کے تعاون سے 8 ہزار روڈ پر قائم کیا جائے گا، اسکو مدنظر رکھتے ہوئے اس سڑک کی تعمیر کی جائے۔

صنعتی علاقہ سے وزیراعلیٰ سندھ کورنگی گئے اور 12 ہزار روڈ کا دورہ کیا جہاں انٹرسیکشن برج کورنگی نمبر 5 پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ اس پل کا منصوبہ آئندہ چھ ماہ میں 330.429 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس پل کی لمبائی 460 میٹر ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے  انٹرسیکشن پل کے ساتھ ہائی ٹینشن اوورہیڈ کیبل کی منتقلی یا متبادل انتظامات کی ہدایت کی۔انھوں نے کورنگی نمبر5 پر پل کا جائزہ لینے کے بعد کورنگی ڈھائی نمبر اووہیڈ پل کا دورہ کیا جوکہ 330.429 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے اور یہ 8.3 میٹر کیرج وے ہے اور اسکی لمبائی 460 میٹر ہے۔

مراد علی شاہ اسکے بعد لیاری گئے جہاں انھوں نے لی مارکیٹ کے اطراف میں زیر تعمیر سڑکوں کا دورہ کیا ۔ یہ سڑکیں 14.64 کلومیٹر طویل ہیں ۔ اس منصوبہ کی لاگت کا تخمینہ 454.2 ملین روپے ہے۔ اس پورے علاقے میں مقررہ مقامات پر ہائی ماس لائٹنگ ٹاور کے ذریعے الیومنیٹڈ بھی کیا جائے گا۔

ان سڑکوں میں 1.63 کلومیٹر شاہ ولی اللہ روڈ جس پر 14 ملین روپے لاگت آئے گی، 15 ملین روپے کی لاگت سے 2.51 کلومیٹر شاہ عبداللطیف بھٹائی روڈ ، 11 ملین روپے کی لاگت سے 1.13 کلومیٹر پی آئی سی ایچ اے آر روڈ ، 13 ملین روپے کی لاگت سے 0.34 کلومیٹر محمد علی علوی روڈ، 16 ملین روپے کی لاگت سے 1.37 کلومیٹر محمد شاہ روڈ، 15 ملین روپے کی لاگت سے 1.36 کلومیٹر صدیق وہاب روڈ، 17 ملین روپے کی لاگت سے 1.54 کلومیٹر نیپئر روڈ ، 14 ملین روپے کی لاگت سے 1.8 کلومیٹر نواب محبت کانجی روڈ، 13 ملین روپے کی لاگت سے 0.59 کلومیٹر شیدی ولیج روڈ، 12 ملین روپے کی لاگت سے 2 کلومیٹر اولڈ دھوبی گھاٹ روڈ، 13 ملین روپے کی لاگت سے 0.15 کلومیٹر بھیم پورہ روڈ اور 15 ملین روپے کی لاگت سے 2 کلومیٹر چاکیواڑہ روڈ شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ کا دورہ ککری گراؤنڈ میں اختتام پذیر ہوا، جہاں انھوں نے جیالوں کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلی۔ اس موقع پر جئے بھٹو، جئے بلاول بھٹو اور جئے مراد علی شاہ کےنعرے بھی لگائے گئے۔

دریں اثنا میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان میں پی ایس ایل کے میچز منسوخ کرنے کی سازش کی گئی تھی مگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور ہماری مخلصانہ کوششوں کی بدولت ہم نے 8 پی ایس ایل کے میچز بشمول فائنل کراچی میں منعقد ہورہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سرحدوں پر صورتحال پیچیدہ ہے لہٰذہ لوگوں کو پی ایس ایل کے میچز کے حوالے سے شکوک و شبہات تھے مگر اب صورتحال قدرِے بہتر ہے اور شہر میں میچز کھیلے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ کراچی کے لوگوں کے جذبہ کے باعث ممکن ہوا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل فائنل کے بعد آئندہ پی ایس ایل اور قومی ٹیم کے لیے صوبے کے کونے کونے میں ٹیلنٹ ہنٹ کیلیے کاوشیں کی جائیں گی اور آئندہ سال نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد میں ایک میچ کا اہتمام کیا جائے گا۔

ترقیاتی کاوشوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو فنڈ ز کی قلت کا سامنہ ہے مگر اس کے باوجود شہر کی تعمیر نو و دیگر ترقیاتی کام کو روکا نہیں جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تمام اسکیموں کا دورہ کیا ہے جوکہ ہم نے شروع کی ہیں اور انشاء اللہ یہ تمام اسکیمیں آئندہ چار ماہ میں مکمل ہوجائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں