وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھارتی الزامات مسترد کر دیئے

اسلام آباد: وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کے معاملے پر بھارتی وزیر خارجہ کے شور شرابے پر اپنے ردعمل میں بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات انسانی ہمدری، اسلامی تعلیمات اور جذبہ خیرسگالی کے تحت کرائی۔

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کے دورے کا مقصد مشکلات کے باوجود ملاقات کرانا تھا، پاکستان کے اس جذبے کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کلبھوشن سے والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کا دورانیہ 30 منٹ طے تھا، درخواست پر 40 منٹ کیا گیا، جذبہ خیرسگالی پر کلبھوشن کی والدہ نے پاکستان حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ کپڑے بدلوانے، جوتا واپس نہ کرنے اور میراٹھی میں بات نہ کرنے کی اجازت کا واویلا ہو رہا ہے، بھارت یاد رکھے کہ یہ کسی عام بیٹے اور شوہر کی ماں اور بیوی سے ملاقات نہیں تھی، سچ یہ ہے کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر، دہشتگرد اور جاسوس ہے، کلبھوشن یادیو کی سرگرمیوں سے پاکستان میں تباہی اور جانی نقصان ہوا، اس صورتحال میں ملاقات کے موقع پر مناسب سکیورٹی اقدامات ہونا بہت ضروری تھے۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ملاقات سے قبل ہی دونوں ممالک نے سفارتی چینلز کے ذریعے تمام امور طے کر لئے تھے، پاکستان بھارتی مہمانوں کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ پیش آیا تھا، کپڑے تبدیل اور جیولری صرف سکیورٹی وجوہات کی بناء پر اتروائی گئی، ملاقات کے بعد مہمانوں نے خود دوبارہ اپنے کپڑے تبدیل کئے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ بھارتی مہمانوں کو ان کی تمام اشیاء ملاقات کے بعد واپس کر دی گئی تھیں۔ کلبھوشن کی اہلیہ کا جوتا سکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے واپس نہیں کیا گیا، کلبھوشن کی اہلیہ کے ایک جوتے میں دھاتی چپ لگی ہوئی تھی جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں