ٹھنڈی ہوا میں ناک کیوں بہتی ہے؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موسمِ سرما کے دوران سرد ہوا میں سفر کرتے وقت اکثر ناک سے پانی بہنا شروع ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے سردی اور الجھن میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟طبی زبان میں یہ عمل ’کولڈ انڈیوسڈ رائنِٹس‘ کہلاتا ہے اور 50 سے 90 فیصد افراد کو اس کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ دمے کے مریضوں، بخار کی کیفیت اور ایگزیما کے شکار افراد پر اس کا حملہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔ہماری ناک کے بہت سے کاموں میں سے ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ پھیپھڑوں کے اندر جانے والی ہوا کو گرم اور نم دار رکھے تاکہ وہ،

پھیپھڑوں تک پہنچ کر ان کے خلیات کو کسی سوزش اور بے چینی میں مبتلا نہ کرسکے۔اگر باہر بہت سردی ہو تو بھی ناک کے اندر داخل ہونے والی ہوا کا درجہ حرارت 26 درجے سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے جو کبھی کبھی بڑھ کر 30 درجے سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے لیکن ہر حالت میں ناک کے اندر تک نمی 100 فیصد ہوتی ہے خواہ ہم کتنی ہی سردی میں سانس کیوں نہ لے رہے ہوں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناک کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ پھیپھڑوں تک جانے والی ہوا گرم اور نمی سے بھرپور رہے۔

اب سرد اور خشک موسم میں ناک کے اندر کے اعصاب ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے متحرک ہوجاتے ہیں جس کی خبر دماغ تک جاتی ہے۔ اس کے ردِعمل میں دماغ، ناک میں خون کی گردش بڑھاتا ہے اور ناک کے اندر اعصاب اور رگیں گرم ہونے لگتی ہیں۔دوسری جانب خنکی اور خشکی کی وجہ سے ناک کے اندر خلیات مائع خارج کرتے ہیں تاکہ اندر جانے والی ہوا میں نمی کی آمیزش ہوسکے۔ اسی طرح جسمانی دفاعی نظام ناک کے خلیات کو تحریک دیتا ہے اور یوں ناک سے پانی خارج ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ ہماری،

ناک بہتر طور پر کام کرنے کےلیے 300 سے 400 ملی لیٹر پانی خارج کرتی ہے۔اس دوران ناک کے اندر خون کی روانی بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو سانس میں دقت اور چھینکوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔موسمِ سرما کے دوران سرد ہوا میں سفر کرتے وقت اکثر ناک سے پانی بہنا شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سردی اور الجھن میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟طبی زبان میں یہ عمل ’کولڈ انڈیوسڈ رائنِٹس‘ کہلاتا ہے اور 50 سے 90 فیصد افراد کو اس کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ دمے کے مریضوں، بخار کی کیفیت اور ایگزیما کے شکار افراد پر اس کا حملہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔

ہماری ناک کے بہت سے کاموں میں سے ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ پھیپھڑوں کے اندر جانے والی ہوا کو گرم اور نم دار رکھے تاکہ وہ پھیپھڑوں تک پہنچ کر ان کے خلیات کو کسی سوزش اور بے چینی میں مبتلا نہ کرسکے۔اگر باہر بہت سردی ہو تو بھی ناک کے اندر داخل ہونے والی ہوا کا درجہ حرارت 26 درجے سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے جو کبھی کبھی بڑھ کر 30 درجے سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے لیکن ہر حالت میں ناک کے اندر تک نمی 100 فیصد ہوتی ہے خواہ ہم کتنی ہی سردی میں سانس کیوں نہ لے رہے ہوں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناک کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ پھیپھڑوں تک جانے والی ہوا گرم اور نمی سے بھرپور رہے۔ اب سرد اور خشک موسم میں ناک کے اندر کے اعصاب ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے متحرک ہوجاتے ہیں جس کی خبر دماغ تک جاتی ہے۔ اس کے ردِعمل میں دماغ، ناک میں خون کی گردش بڑھاتا ہے اور ناک کے اندر اعصاب اور رگیں گرم ہونے لگتی ہیں۔دوسری جانب خنکی اور خشکی کی وجہ سے ناک کے اندر خلیات مائع خارج کرتے ہیں تاکہ اندر جانے والی ہوا میں نمی کی،

آمیزش ہوسکے۔ اسی طرح جسمانی دفاعی نظام ناک کے خلیات کو تحریک دیتا ہے اور یوں ناک سے پانی خارج ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ ہماری ناک بہتر طور پر کام کرنے کےلیے 300 سے 400 ملی لیٹر پانی خارج کرتی ہے۔اس دوران ناک کے اندر خون کی روانی بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو سانس میں دقت اور چھینکوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں