پارلیمانی قیادت کا پاک فوج سے مکمل یکجہتی کا اعلان

پارلیمانی رہنمائوں نے بھارتی جارحیت کے خلاف پاک فوج کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

پارلیمنٹ ہائوس میں پارلیمانی رہنمائوں کو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی میجر جنرل آصف غفور نے ان کیمرہ بریفننگ دی جبکہ آرمی چیف نے بھی فورم پر بات چیت کی۔

ان کیمرہ بریفنگ میں حکمران اتحاد کے وزیر دفاع پرویز خٹک،اسپیکر اسد قیصر،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،وفاقی وزیر شیریں مزاری،شفقت محمود،ایم کیو ایم پاکستان کے امین الحق، سینیٹر سیف،حسن بلوچ،انوار الحق کاکڑ،خالد مگسی اور  طارق بشیر چیمہ بھی موجود تھے۔

اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق صدر آصف زرداری، سردار ایاز صادق، خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثنااللہ، مریم اورنگ زیب، راجا ظفر الحق، مشاہد اللہ خان،خورشید شاہ،راجا پرویز اشرف ، نوید قمر، شیری رحمٰن، سلیم مانڈوی والا ،سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی، مولانا اسد محمود، مولانا عبدالغفور حیدری اور مولانا عطاالرحمٰن شریک ہوئے۔

ذرائع کے  مطابق پارلیمانی رہنمائوں کو زیادہ تر بریفنگ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دی اور انہیں بھارتی جارحیت اور پاکستان کی جوابی کارروائی کے حوالے سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مزید حرکت کا خدشہ موجود ہے،ہم بھارت کے دفاع کےلئے پوری طرح تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی پاکستانی طیارے نے ایل او سی کی خلاف ورزی نہیں کی،بھارتی طیاروں نے ایل او سی عبور کیا جس پر انہیں مار گرایا،2 بھارتی طیاروں میں سے ایک پاکستانی اور دوسرا بھارتی حدود میں گرا،بھارت کو ہم نے موثر جواب دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو ایک بار پھر امن کی دعوت دی ہے،توقع ہے کہ بھارت ہوش مندی کا مظاہرہ کرے گا اور پاکستان کی دعوت کو مثبت لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں نے پاک بھارت کشیدگی پر بہت تشویش کا اظہار کیا ہے، وہ اپنا کردار ادا کررہے ہیں،ان کی کوشش ہے کہ معاملات طے پاجائیں۔

ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے شرکاء کو کوئی نکتہ واضح نہ ہونے پر استفسار کا بھی کہا،سیاسی رہنمائوں نے سوالات نہیں کئے بلکہ کچھ نکات پر وضاحت حاصل کی۔

آرمی چیف نے دوران بریفننگ سیاسی جماعتوں کی طرف سے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے بات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

ان کیمرہ بریفننگ کے بعد صحافی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا کہ ’ان کیمرہ بریفنگ کیسی رہی‘؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ بریفنگ بہت اچھی رہی۔

بعد ازاں صحافیوں نے پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری سے بھی سوال کیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سب کا مورال بلند ہے۔

ان کیمرہ بریفنگ کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پارلیمانی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور بہت اچھی میٹنگ ہوئی ہے، سب پارلیمانی رہنماؤں کا شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں نے ہماری بریفنگ کو بڑے تحمل سے سنا اور پاکستان، افواج پاکستان اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔

 گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن نے بھارتی جارحیت پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا جس میں عسکری قیادت کی موجودگی کی اپیل بھی کی تھی۔

حکومت نے بھارتی جارحیت کے خلاف کل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔

پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں میں تمام جماعتیں بھارتی جارحیت کے خلاف یک زبان نظر آئیں اور بلوچستان اسمبلی میں آج مذمتی قرار داد پیش کی گئی۔

 پیر اور منگل کی درمیانی شب بھارتی ایئر فورس کے طیارے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اور پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں دراندازی کرنے والے طیارے بالاکوٹ کے مقام پر ایمونیشن گرا کر فرار ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں