پاکستانی معیشت بہتری کی منتظر

***تنویر انجم***
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ابھی 6 ماہ کی بھی نہیں ہوئی کہ اس نے اقتصادی اصلاحات کا لیبل لگا کر منی بجٹ پیش کردیا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے ایوان میں تقریر کے دوران اپوزیشن کو بیرون ملک جائیدادوں اور منی لانڈرنگ جیسے طعنے دیے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ’’گو نیازی گو‘‘ کا شور سنائی دیا۔ وزیر اعظم عمران خان ایوان میں بجٹ پیش کیے جانے کے دوران ہیڈ فون لگا کر تسبیح کے دانے گھماتے رہے۔ ان کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ چھائی رہی۔ قبل ازیں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سانحہ ساہیوال کے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور پنجاب سمیت وفاقی حکومت پر سخت تنقید کی۔ 
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ حکومت ملک میں کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے اور بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے حالات سازگار بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بجٹ میں ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے مراعات کا اعلان کیا، ٹیکسز میں کمی اور کچھ محصولات کے خاتمے کے ساتھ کچھ مزید ٹیکس لگائے۔ حکومت کے اصلاحاتی پیکیج میں چند اہم کام جن کی کاروباری طبقے کی جانب سے پذیرائی کی گئی ان میں ٹیکس فائلر کے لیے بینکنگ ٹرانزیکشن میں ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنا، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرکے 39 سے 20 فیصد کرنا اہم ہیں۔ اس کے علاوہ بھی حصص مارکیٹ میں کاروبار کیلئے کچھ سہولیات دی گئی ہیں۔ چھوٹے شادی ہالوں کا ٹیکس غیر معمولی کم کردیا گیا اور غریبوں کیلئے سستے مکانات کی تعمیر کے لیے قرض حسنہ فنڈ کا قیام شامل ہے تاہم موبائل فون پر ٹیکس کو عوام اور کاروباری حلقے نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاجر طبقے کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات سے کاروبار میں بہتری آنے کی امید ہے، اس کے برعکس معاشی ماہرین دعویٰ کررہے ہیں کہ منی بجٹ سے پہلے ہی گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ دوائیں مہنگی کر دینا عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے، ایسے میں اگر حکومت عوام پر مزید بڑے ٹیکس عائد کرتی تو یہ اس کے استحکام کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا تاہم حکومت کی طرف سے جو بات چھپائی گئی وہ یہ ہے کہ جن ٹیکسز کی شرح کم کی گئی یا جو بالکل ہی ختم کردیے گئے، اس اقدام کے نتیجے میں ملکی ریونیو میں جو کمی آئے گی، اسے کس طرح سے پورا کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے بعد مزید ٹیکس لگا کر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب حکومت دوست ممالک سے امداد اور ان سے ملنے والے معاشی پیکیجز کے باوجود آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کی بنیادی شرط ہی مالی خسارے میں کمی لانا ہے، اور اس خواہش کی تکمیل عوام پر مزید ٹیکسز کا بوجھ لادے بغیر تو ممکن ہی نہیں۔ ابتدائی طور پر تو اصلاحات کے نام پر متعارف کرائے گئے منی بجٹ کے اثرات سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سخت تنقید کے دوران بل منظور ہونے کے فوراً بعد جو سب سے بڑی خبر سامنے آئی وہ یہ کہ بیرون ملک اثاثوں کی چھان بین کرنے والا ادارہ ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جس سیڑھی پر چڑھ کر اقتدار تک پہنچی اس کی بنیاد ہی بیرون ملک سے کالے دھن کی واپسی تھی، ایسے میں اس ادارے کو ختم کرنے کا فیصلہ حکومت کی سمت واضح کررہے ہیں جو پہلے ہی ماہرین اور عوام کی نظر میں مشتبہ ہے۔ کپتان کی جانب سے نیا پاکستان کے نام پر تبدیلی کی مہم سے عوام بشمول مخالفین سب ہی کسی حد تک پُرامید تھے کہ ملک میں مثبت تبدیلی آئے اور معیشت سمیت عوام خوشحال ہوں، تاہم ابھی تک اعلانات، اقدامات اور فیصلوں سے زیادہ بات بڑھ نہیں سکی اور اس کے برعکس مہنگائی کی وجہ سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے جبکہ جرائم پیشہ افراد، اور کاروباری دھوکا دہی کے معاملات بدستور جاری ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو ادراک کرنا ہوگا کہ اب اتنا وقت گزر چکا ہے، جس کے بعد صرف دعووں اور دھمکیوں سے کام نہیں چلنے والا، عملی، سنجیدہ، ٹھوس اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے جس سے ملک میں پھیلی مایوسی ختم ہو اور عوام ازخود اپنے گھر، روزگار اور کاروبار میں بہتری محسوس کریں۔ بصورت دیگر حکومت کا جو انجام ہو سکتا ہے، اس سے سب ہی واقف ہیں۔
حکومت ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے، اور اس کے لیے مختلف ممالک سے سمجھوتے بھی ہوئے ہیں، دوست ممالک سے امدادی پیکیج (جس کا سود ادا کرنا ہوگا) ملے، جن میں ملک میں بڑی سرمایہ کاری کرنا بھی شامل ہے، گزشتہ دنوں وفاقی وزیر ریلوے نے بھی دھڑلے سے اعلان کیا کہ سعودی فرمانروا کے دورہ پاکستان کے دوران ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا اعلان ہوگا، اور لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ سرمایہ کاری کہتے کسے ہیں؟۔ اسی طرح امارات بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا، اسلامی ترقیاتی بینک نے بھی ادھار تیل کی مد میں پیکیج دیا جبکہ چین پہلے ہی کثیر سرمایہ کاری کرچکا ہے اور سی پیک کے علاوہ دیگر منصوبوں پر بے شمار کام جاری ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے جتنے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، ان میں یہ کہیں بھی نظر نہیں آتا کہ حکومت اپنے شہریوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کررہی ہو؟۔ سمندر پار پاکستانیوں کو زرمبادلہ بھیجنے کے لیے سہولیات دی جا رہی ہیں، مگر انہیں ملک میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کیلئے کوئی غیر معمولی فیصلہ نظر نہیں آیا۔ اسی طرح ملک میں موجود شہریوں، کاروباری افراد اور بڑی کمپنیوں کو پہلے سے جاری منصوبوں کے علاوہ مزید بڑھ کر سرمایہ کاری کرنے کی جانب اُس طرح سے پھرتی نہیں دکھائی جا رہی، جس طرح سے غیروں (غیر ملکی سرمایہ کاری) کو ملک میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے، کہ جب غیرملکی سرمایہ کاری، ملکی سرمایہ کاری سے بھی بڑھ جائے گی تو کیا ہوگا۔ اُنہیں کوئی غرض نہیں ہوگی کہ آپ کا معاشرہ، سماج اور ماحول کیا شے ہے، ان کا مقصد اور اولین ترجیح یہی ہوگی کہ اپنے سرمائے کو کیسے محفوظ کیا جائے، اس کے لیے وہ کسی بھی اقدام کو جائز قرار دے سکتے ہیں۔ ماحول دشمن ایسی سرگرمیاں جن کی اب مغرب اور ترقی یافتہ ممالک میں کوئی جگہ نہیں رہی، وہ اب اِس خطے میں سرمایہ کاری کے نام پر منتقل کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کے نتیجے میں آپ نے بالآخر نقصان ہی اٹھانا ہے۔ حالیہ منی بجٹ میں حکومت کے کے برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کے اعلانات تو سامنے آ گئے، مگر پورا ملک تاحال اس انتظار میں ہے کہ ملکی معیشت میں بہتری کب نظر آتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں