پاکستانی نوجوان نے انٹرنیٹ کو گاﺅں کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ بنادیا

ناروال (سنہرادور آن لائن) ناروال کے قریب ایک دور افتادہ قصبے شکریالی میں کمپیوٹر سائنس کے ایک طالب علم نے مقامی افراد کو انٹرنیٹ اور اس سے متعلقہ ٹیکنالوجی سے متعارف کروا کے کمیونیکیشن اور تعلیم کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں۔
اپنے اس منصوبے کے حوالے سے کمپیوٹر سائنس کے طالب علم وسیم کا کہنا تھا کہ جب میں یونیورسٹی آف سرگودھا میں بیچلر میں داخلہ لیا تو میں نے محسوس کیا کہ دنیا میں بہت زیادہ ترقی ہو رہی ہے اور میں نے کئی مواقع گنوا دئیے ہیں، میں نے اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد اپنے گاﺅں میں جا کر اپنی کمیونٹی کی مدد کر نے کا فیصلہ کیا۔وسیم کو اپنا سفر شروع کرنے میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان مسائل میں کم شرح خواندگی، جدید اطلاعات تک رسائی میں فقدان اور ٹیکنالوجی کی کمی نمایاں مسائل تھے۔قصبے کے کئی افراد کا ذریعہ معاش زراعت تھا ، لیکن یہاں پر زراعت کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بجائے پرانے طریقے رائج تھے ، اسی وجہ سے لوگ تعلیم پر توجہ دینے کی بجائے زراعت کو ہی ترجیح دیتے تھے۔ اس صورت حال میں وسیم کے ارادوں اور خیالات کو عملی جامہ پہنانے والا کوئی نہیں تھا ، بالاخر ایک امام مسجد اس کے ساتھ کام کرنے کے تیار ہوگیا۔

شکریالی کے جامعہ مسجد کے امام مولوی عبد المجید مسجد میں فنڈز کی کمی کی شکایت کرتے تھے، ان کا شکوہ تھا کہ سرتوڑ کوششوں کے باوجود مسجد کے لئے فنڈز جمع کرنا بہت مشکل ہیں، وسیم کو مولوی عبد المجید کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اپنے ویژن کو آگے بڑھانے کا ایک موقع ہاتھ آگیا ، اس نے امام مسجد کو بتایا کہ کس طرح ایک سمارٹ فون انسانی زندگی کو تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے۔ سمارٹ فون کی مدد سے گاﺅں کے وہ افراد جو بیرون ملک یا ملک کے دیگر شہروں میں مقیم ہیں ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔امام مسجد کو اس کی باتوں نے بہت متاثر کیا، اس نے مقامی بینک میں مسجد کا ایک جوائنٹ اکاﺅنٹ کھولا ، جلد ہی اس اکاﺅنٹ میں فنڈز آنا شروع ہوگئے اور مسجد کے اکاﺅنٹ میں400سعودی ریال جمع ہوگئے ، اس مسجد سے فوری طور پر میلاد منایا گیا اور باقی رقم سے بجلی کے بل اور مسجد کی اطراف میں تعمیرات کی گئیں۔مولوی عبد المجید کی جانب سے انٹرنیٹ کے استعمال اور مسجد کے لئے عطیات آنے کے بعد گاﺅں کے لوگوں نے انٹرنیٹ استعمال کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھانا شروع کردی، گاﺅں والے اپنے پیاروں سے رابطے ، نوکریاں تلاش کرنے اور دیگر مقاصد کے لئے انٹرنیٹ استعمال کرنے لگے۔

2015ءسے وسیم نے اپنے ان دوستوں کو سمارٹ فون استعمال کرنا سکھانا شروع کردیا جو فیس بک اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو سماجی رابطوں، تعلیم اور تفریح کے لئے استعمال کرتے تھے۔یہ شکریالی کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کا پہلا قدم تھا ، یہاں کے لوگ اب بھی برانڈ بینڈ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ایج ٹیکنالوجی اور تھری جی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں ۔

وسیم کا اب منصوبہ ہے کہ وہ شکریال کے لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کرائے اور علاقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے ایک ویب سائٹ لانچ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں