پاکستان میں اب قومی اداروں کو مسمار نہیں ہونے دیا جائے گا: طاہر القادری کا آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب

لاہور:سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کو انصاف دلانے کے لیے پاکستان عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس شروع ہو گئی۔ اپوزیشن جماعتوں کی مرکزی قیادت یقین دہانی کے باوجود شریک نہ ہوئی، نمائندگی کے لیے دوسرے رہنماؤں کو بھیج دیا۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہر القادری کی جانب سے دی جانے والی اکتیس دسمبرکی ڈیڈ لائن سر پر ہے لیکن مطالبے کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اوروزیر قانون رانا ثناءاللہ کا استعفیٰ نہ آیا۔ نئی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے پاکستان عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔

اے پی سی میں تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شریک ہیں ۔ لیکن دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ آصف زرداری، عمران خانشریک نہیں ہوئے۔ چودھری برادران اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی وعدے کے مطابق خود نہ پہنچے بلکہ پارٹی نمائندگی کے لیے دوسرے رہنماؤں کو بھیج دیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے عدالت کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری عام کرنے کے عدالتی فیصلے کے بعد اگلا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اے پی سی بلانے کا اعلان کیا تھا۔

سربراہ پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے اے پی سی میں شرکت کے لیے پاکستان تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم پاکستان، مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین سمیت اپوزیشن کی دیگرجماعتوں کو دعوت دی گئی تھی۔

آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔

:پس منظر

واضح رہے کہ 17 جون سال 2014 کو ماڈل ٹاؤن لاہور میں ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائشگاہ کے سامنے قائم تجاوزات کے خاتمے کیلئے راتوں رات شروع کیے جانے والے آپریشن کیخلاف کارکنوں نے شدید مزاحمت کی تھی جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے خواتین سمیت پاکستان عوامی تحریک کے 14 کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی پانچ رکنی جےآئی ٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان کو بے گناہ قرار دیا تھا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری بھی ہوئی لیکن جسٹس باقر نجفی کمیشن کی مرتب کردہ رپورٹ کو منظرعام پر نہیں لایا گیا۔ پاکستان عوامی تحریک نے اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔ عدالت نے رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا حکم دے رکھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں