پاکستان کپاس پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک

محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر آتا ہے جبکہ ملکی مجموعی پیداوار کا قریباً 72 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ کپاس اور اس کی مصنوعات کے ذریعے ملک کو کثیر زرِمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
زرعی ماہر عصمت کاہلوں نے بتایاکہ پاکستان میں 2015-16 میں شدید بارشوں، سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے شدید حملوں کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی اور کاٹن انڈسٹری زوال پذیر ہو گئی ۔ 2016-17 میں پاکستان میں کپاس کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے کاٹن انڈسٹری کو سہارا دینے کیلئے حکومت نے وزیراعظم کسان پیکیج اور بعد ازاں صوبہ پنجاب کی سطح پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 212 ارب روپے کے” خادم پنجاب کسان پیکیج “کا اعلان کیا۔یوں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرائیویٹ سیکٹر کو پبلک سیکٹر کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی دعوت دی گئی۔
کپاس کے کاشتکاروں کےلئے پہلی مرتبہ مون سون بارشوں کے نقصانات سے کپاس کی فصل کومحفوظ رکھنے اور زیادہ پیداوار کے حصول کےلئے کسان پیکیج کے تحت 6 کروڑ روپے کی سبسڈی سے رین واٹر مینجمنٹ، پائلٹ پروجیکٹ مکمل کیا گیا ۔کپاس کے کھیتوں میں کھڑے بارش کے اضافی پانی کی فوری نکاسی ممکن بنانے کےلئے 250 پورٹ ایبل پمپس فراہم کئے گئے ہیں۔اسی طرح 2017-18 میں بین الاقوامی طور پر کپاس کی قیمتوں میں یک لخت غیر معمولی اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ دنیا کے کئی ممالک میں طوفان اور آفات کی وجہ سے کپاس کی فصل متاثر ہوئی۔ پی سی جی اے (پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن) کے مطابق 2017-18میں پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ اوسط پیداوار 20.48 من ریکارڈ کی گئی جبکہ سال 2016-17 میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار 20 من رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں