پاکستان کی دہشت گردی کے معاملات میں کوتاہیوں پر تشویش ہے، امریکی محکمہ خارجہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نورت نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے معاملات میں کوتاہیاں برتنے پر تشویش ہے اس لیے امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان کو عالمی دہشت گردوں سے متعلق مالیاتی ’’واچ لسٹ‘‘ میں شامل کیا جائے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران ہیدر نورت نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ پاکستان کو عالمی دہشت گردوں سے متعلق مالیاتی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تحریک پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا امریکا کو کافی عرصے سے اس بات پر تشویش ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے کوتاہیاں برت رہا ہے لہٰذا امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان کو نگرانی کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ ہیدر نورت نے کہا کہ یہ معاملہ صیغہ راز کا ہے لہٰذااس بارے میں فی الحال اور کچھ نہیں بتایا جاسکتا۔
واضح رہے کہ دوروز قبل ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے چند ہفتوں قبل ایک تحریک پیش کی گئی تھی جس کے مطابق پاکستان کو عالمی دہشت گردوں سے متعلق مالیاتی واچ لسٹ (نگرانی کی فہرست) میں شامل کیے جانے کا امکان ہے جس کی نگرانی منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والا گروپ کرےگا۔ اگلے ہفتے پیرس میں منعقد ہونے والی اے ایف ٹی ایف کی میٹنگ میں پاکستان کے خلاف یہ قرارداد منظور ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے گفت و شنید جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم اس بات میں کامیاب ہوجائیں گے کہ پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل نہ کیا جائے۔ہر گز کمزوری نہ سمجھا جائے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے عوام ملک میں جاری تنازع کا بدستور خمیازہ بھگت رہے ہیں جس میں گزشتہ سال بھی10ہزار سے زائد شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق افغانستان کیلیے اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (یو این اے ایم اے) اور عالمی تنظیم کے دفتر برائے انسانی حقوق کی طرف سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی رپورٹ جمعرات کو جاری کی گئی ہے جس کے مطابق 2017 میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں 3438 شہری ہلاک اور 7015 زخمی ہوئے۔
افغانستان کیلیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی تادامیچی یاماموتو کے مطابق یہ اعداد و شمار افغانستان میں جاری جنگ کے عوام پر تباہ کن اثرات کی عکاسی کرتے ہیں، انھوں نے خاص طور پر خودکش اور بم حملوں میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں خواتین اور بچوں کا متاثر ہونا انتہائی تکلیف کا باعث ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس مختلف پرتشدد کارروائیوں میں 359 خواتین ہلاک اور 865 زخمی ہوئیں جو خواتین کے جانی نقصان میں ماضی کی نسبت 5 فیصد زیادہ ہے، اسی طرح ہلاک و زخمی ہونے والے بچوں کی شرح میں بھی 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 2017 میں 861 بچے ہلاک اور2318 زخمی ہوئے تھے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت مخالف عناصر دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بناتے آ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ افغان طالبان نے امریکی عوام اور کانگریس ارکان کے نام ایک کھلے خط میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں